جوتا پہن کر نماز جنازہ پڑھنا کیسا ہے؟ | محمد اویس العطاری المصباحی




اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتیں ہیں علماے کرام کہ نماز جنازہ پڑھنے میں جوتے یا چپل پر کھڑے ہوکر یا پہن کر پڑھنا کیسا؟ کچھ کا اعتراض ہے کہ جوتے پر کھڑے ہو کر یا  پہن کر پڑھنا ایک طرح ہی ہے جواب عنایت فرمایں عین نوازش ہوگی۔


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

حکمِ شرع یہ ہے کہ جب جوتا پہن کر نماز جنازہ پڑھی جائے تو جوتا اور اس کے نیچے زمین کا پاک ہونا ضروری ہے بقدرِ مانع نجاست ہوگی تو اس کی نماز نہ ہوگی اور اگر جوتا اتار کر نماز پڑھی تو جوتے کا پاک ہونا ضروری ہے لہذا احتیاط یہی ہے کہ جوتا اتار کر اس پر پاؤں رکھ کر نماز پڑھی جائے کہ زمین یا تَلا اگر ناپاک ہو تو نماز میں خلل نہ آئے۔ اور بعض کا یہ اعتراض کرنا کہ جوتے پر کھڑے ہو کر یا پہن کر پڑھنا ایک طرح ہی ہے شریعت کی رُو سے دُرست نہیں لہذا جب تک شرعی مسئلہ معلوم نہ ہو تب تک محض اپنی طرف سے غلط مسئلہ بتانا شرعاً ناجائز و گُناہ ہے۔

شیخ الاسلام و المسلمین اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہ تَعَالٰی عَلَيْهِ اسی طرح کے سوال میں جواباً ارشاد فرماتے ہیں:”اگر وہ جگہ پیشاب وغیرہ سے ناپاك تھی یا جن کے جوتوں کے تلے ناپاك تھے اور اس حالت میں جوتا پہنے ہوئے نماز پڑھی اُن کی نماز نہ ہوئی، احتیاط یہی ہےکہ جوتا اتار کر اس پر پاؤں رکھ کر نماز پڑھ لی جائے کہ زمین یا تلا ناپاك ہو تو نماز میں خلل نہ آئے۔

ردالمحتار میں ہے:قد توضع فی بعض المواضع خارج المسجد فی الشارع فیصلی علیها ویلزم منه فسادھا من کثیر من المصلین لعموم النجاسة وعدم خلفهم نعالھم المتنجسة“ یعنی کبھی بعض مقامات مین بیرونِ مسجد سڑك پر جنازہ رکھ کر نماز پڑھی جاتی ہے اس سے بہت سے لوگوں کی نمازکا فساد لازم آتاہے کیونکہ وہ جگہیں نجس ہوتی ہیں اور لوگ اپنے نجاست آلود جوتے اتارتے نہیں۔

اُسی میں ہے:”فی البدائع لوصلی علٰی مکعب اعلاہ طاھر وباطنه نجس عندمحمد یجوز لأنه صلی فی موضع طاہر کثوب طاھر تحته ثوب نجس اھ وظاہرہ ترجیح قول محمد وھو الاشبه ملخصًا یعنی بدائع میں ہے: اگر کسی ایسے مکعب پر نماز پڑھی جس کا بالائی حصہ پاکہے اور اندرونی حصہ ناپاك ہے تو امام محمد کے نزدیك جائز ہے، اس لئے کہ نماز پاك جگہ اداہوئی جیسے کوئی پاك کپڑا ہو جس کے نیچے دوسرا ناپاك کپڑا ہو اھ۔ اس کا ظاہر امام محمد کے قول کی ترجیح ہے اور وہی اشبہ ہے(ملخصًا)۔“ (ماخوذ از فتاویٰ رضویہ، جلد:9، صفحہ:189-190، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظَمی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ تحریر فرماتے ہیں:”بعض لوگ جوتا پہنے اور بہت لوگ جوتے پر کھڑے ہو کر نماز جنازہ پڑھتے ہیں ، اگر جوتا پہنے پڑھی تو جوتا اور اس کے نیچے کی زمین دونوں کا پاک ہونا ضروری ہے، بقدر مانع نجاست ہوگی تو اس کی نماز نہ ہوگی اور جوتے پر کھڑے ہو کر پڑھی تو جوتے کا پاک ہونا ضروری ہے۔“ (بہارِ شریعت، جلد:1، حصہ چہارم، صفحہ:826، مجلس المدينة العملية دعوت اسلامی)

غلط مسئلہ بتانے کے متعلق حدیث پاک میں ہے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث شریف ابوداؤد کے حوالے سے مشکوۃ المصابیح میں ہے:”قال رسول الله صلى الله عليه و سلم:من أفتي بغير علم كان إثمه على من أفتاه یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کو بغیر علم کے فتویٰ دیا گیا، تو اس کا گناہ اس پر ہے جس نے اس کو فتویٰ دیا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح، صفحہ:35، مطبوعہ کراچی)

جامع الصغیر میں مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے مروی ہے:”من افتی بغیر علم لعنتة ملائکة السماء والارض“ یعنی جس نے بغیر علم کے فتوی دیا اس پر آسمان وزمین کے فرشتوں کی لعنت ہے۔ (جامع الصغیر معه فیض القدیر، جلد:6، صفحہ:101، بیروت)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

کیا شوہر اپنی بیوی کو قبر میں اتار سکتا ہے؟اس مسئلہ کو پڑھنے کے لیے کلک کریں 



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.