جامعہ اشرفیہ کے نظامِ تعلیم میں حافظِ ملت کی اجتہادی بصیرت | محمد اظہار احمد نوری مصباحی


سوانحِ حیات حضور حافظِ ملت عبد العزیز مرادآبادی علیہ الرحمہ| جامعہ اشرفیہ کے نظامِ تعلیم میں حافظِ ملت کی اجتہادی بصیرت


جامعہ اشرفیہ کے نظامِ تعلیم میں حافظِ ملت کی اجتہادی بصیرت

از: اظہار احمد نوری مصباحی

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
جامعہ اشرفیہ مبارک پور کی تاریخ دراصل ایک ایسے مردِ مجاہد کی علم و عمل سے لبریز جدوجہد کی داستان ہے، جس نے نہ صرف اپنے وقت کے علمی و فکری تقاضوں کو سمجھا بلکہ آنے والے زمانوں کی ضرورتوں کو بھی اپنی اجتہادی بصیرت سے محسوس کیا۔ وہ مردِ مجاہد، مردِ درویش اور مردِ بصیرت حافظِ ملت علامہ شاہ عبدالعزیز محدثِ مرادآبادی علیہ الرحمہ ہیں۔ ان کی علمی، فکری اور تنظیمی بصیرت نے جامعہ اشرفیہ کے نظامِ تعلیم کو ایک منفرد شناخت عطا کی، جس کی بدولت آج یہ ادارہ نہ صرف برصغیر بلکہ عالمی سطح پر علمی و دینی اعتبار سے ممتاز مقام رکھتا ہے۔

:اجتہادی بصیرت: تعریف و مفہوم
اجتہاد کا مطلب صرف فقہی مسائل میں رائے قائم کرنا نہیں، بلکہ زمانے کے بدلتے حالات میں دین کی خدمت کے نئے اور مؤثر طریقے تلاش کرنا بھی اجتہاد کے زمرے میں آتا ہے۔ حافظِ ملت کی بصیرت اسی معنی میں اجتہادی تھی۔ انہوں نے روایت کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھا مگر اس کے ساتھ ساتھ عصرِ حاضر کے تقاضوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔
:حافظِ ملت نے اسی فکری وسعت کے ساتھ نظامِ تعلیم میں وہ تبدیلیاں کیں جنہیں بجا طور پر اجتہادی بصیرت کہا جا سکتا ہے جیسا کہ حضرت نے فرمایا:  زمانہ بدلتا ہے، نئے مسائل آتے ہیں، مگر اصولِ دین ہمیشہ قائم رہتے ہیں؛ ان اصولوں کی روشنی میں ہر دور کی ضرورت پوری کرنا ہی اجتہاد ہے۔


:نظامِ تعلیم کی تشکیل میں اجتہادی پہلو
آپ کی اجتہادی بصیرت نے اس بحران کے مقابلے میں ایک متوازن، جامع اور تربیت یافتہ نظامِ تعلیم پیش کیا جو آج بھی علمی و روحانی رہنمائی کا منبع ہے۔
حافظِ ملت نے جامعہ اشرفیہ کا تعلیمی نظام مرتب کرتے وقت صرف روایت کو پیشِ نظر نہیں رکھا بلکہ اس میں کئی ایسے اجتہادی نکات شامل کیے جو ان کے دور میں غیر معمولی اہمیت رکھتے تھے۔

:قرآن و سنت پر گہری توجہ
انہوں نے تعلیمِ دین کی بنیاد قرآن و سنت پر رکھی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ طلبہ محض نصوص کے حافظ نہ رہیں بلکہ ان کے معانی و مطالب سے بھی واقف ہوں۔

:فنِ حدیث کی وسعت
محدثِ مرادآبادی ہونے کے ناطے انہوں نے حدیث کی تعلیم کو غیر معمولی وسعت دی، اس کی تدریس کے لیے ماہر و مشفق اساتذہ مقرر کیے اور طلبہ میں تحقیق و تنقید اور تفحص و تفتیش کا ذوق پیدا کیا۔

:فقہی بصیرت اور اصولی تربیت
فقہ و اصولِ فقہ کو نہ صرف نصاب کا مرکزی حصہ بنایا گیا بلکہ طلبہ کو دلائل و استنباط کے طریقے سکھانے پر زور دیا گیا تاکہ وہ محض ناقل نہیں بلکہ محقق و مجتہد بن سکیں۔

:ادب، منطق اور معقولات
آپ کی نظر میں یہ تینوں زبان و علم کی بنیاد ہیں۔ اس لیے عربی ادب، منطق، فلسفہ، اور بلاغت جیسے مضامین کو خاص اہمیت دی گئی۔
(ماہنامہ اشرفی دنیا، شمارہ جون 1998، ص 43)

:تربیتِ باطن اور روحانیت
جامعہ اشرفیہ میں محض درس و تدریس نہیں بلکہ طلبہ کی اخلاقی، روحانی اور اصلاحی تربیت کو بھی لازمی قرار دیا گیا۔
علم اگر خشیتِ الٰہی پیدا نہ کرے تو وہ بوجھ ہے، برکت نہیں۔


:علم و عمل کی جامعیت
حافظِ ملت صرف علمی تربیت پر قناعت نہیں کرتے تھے بلکہ عملی زندگی میں بھی طلبہ کو صالح کردار، تقویٰ، زہد اور خلوص کی تعلیم دیتے تھے۔
7. عصرِ حاضر کے تقاضوں کا لحاظ:
ان کی اجتہادی بصیرت کا مظہر یہ بھی ہے کہ انہوں نے جدید تعلیم سے بالکلیہ انکار نہیں کیا بلکہ اس کے مفید پہلوؤں کو سمجھ کر دینی تعلیم کے دائرے میں مناسب حد تک جگہ دی۔ وہ چاہتے تھے کہ دینی طالبِ علم زمانے کی زبان سمجھ سکے تاکہ دین کی نمائندگی بہتر انداز میں ہو سکے۔

:تربیتِ اساتذہ اور نظمِ تدریس
حافظِ ملت نے اساتذہ کی تربیت پر بھی زور دیا۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ “علم وہی بارآور ہوتا ہے جو خلوص کے ساتھ پڑھایا جائے۔” اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک ایسا ماحول بنایا جس میں تعلیم و تربیت، تدریس و تزکیہ اور روحانیت و اخلاق کا حسین امتزاج پیدا ہوا۔

:نتائج و ثمرات
حافظِ ملت کی اس اجتہادی بصیرت کا نتیجہ یہ ہوا کہ جامعہ اشرفیہ ایک ایسے نظامِ تعلیم کا مرکز بن گیا جو روایت و تجدید، شریعت و حکمت اور علم و عمل کا جامع ہے۔ آج دنیا کے مختلف خطوں میں اشرفیہ کے تربیت یافتہ علماے کرام، مفتیان عظام اور محدثین ذوی الاحترام دین کی شمع روشن کر رہے ہیں، جو دراصل حافظِ ملت کی اس فکر و بصیرت کا ثمرہ ہے۔
جامعہ اشرفیہ کا نظامِ تعلیم حافظِ ملت کی علمی و اجتہادی بصیرت کا آئینہ دار ہے۔ ان کی بصیرت نے ثابت کیا کہ اجتہاد محض فقہی موشگافیوں کا نام نہیں، بلکہ زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھ کر دینی اداروں کی سمت متعین کرنا بھی اجتہاد ہے۔ آج جب ہم جامعہ اشرفیہ کی کامیابیوں پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہر قدم پر حافظِ ملت کی اجتہادی بصیرت کے نقوش روشن نظر آتے ہیں، جنہوں نے اس ادارے کو “قلعۂ دین و علم” بنا دیا۔

ابر رحمت تیری مرقد پر گہر باری کرے
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 سوانحِ حیات حضور حافظِ ملت عبد العزیز مرادآبادی علیہ الرحمہ پڑھنے کے لیے   کلک کریں 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.