ایک بیوی نے اپنے شوہر سے کہا کہ قرآن کی قسم میں ابھی گھر سے اپنے گھر جاؤں گی لیکن وہ فوراً نہیں گئی، کیا حکمِ شرع ہوگا؟
*بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
_____________________________________________
صورتِ مسؤولہ میں عورت پر قسم توڑنے کے سبب کفارہ واجب ہے، کیونکہ قرآن مجید کلام اللہ کا نام ہے اور کلام اللہ صِفتِ الہی ہے،
اور اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے کسی کسی صفت کے ساتھ قسم کھانے سے بھی قسم ہو جاتی ہے۔ اور قسم توڑنے سے کفارہ لازم آتا ہے۔ قسم کا کفارہ: غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا، یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنانا ہے یعنی یہ اختیار ہے کہ ان تین باتوں میں سے جو چاہے کرے۔ اور اگر کوئی شخص ان میں سے کسی کی استطاعت نہیں رکھتا تو وہ تین روزے مسلسل رکھے۔
قرآن پاک سے بھی قسم ہو جاتی ہے، چنانچہ بہارِ شریعت میں ہے:” قرآن کی قسم، کلام اللہ کی قسم، ان الفاظ سے بھی قسم ہوجاتی ہے۔“ (1)
قسم کے کَفارہ کے متعلق تبیین الحقائق میں ہے:” و کفارته تحرير رقبة أو إطعام عشرة مساكين كهما في الظهار أو كسوتهم بما يستر عامة البدن“ یعنی قسم کا کفارہ غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا ان کو کپڑے پہنانا ہے۔ (2)
اگر آزاد یا کھانا یا کپڑے پہنانے کی استطاعت نہ ہو تو مسلسل تین روزے رکھے، چنانچہ الجوہرۃ النیرہ میں ہے:”فإن لم يقدر على أحد هذه الأشياء الثلاثة صام ثلاثة أيام متتابعات“ یعنی اگر تین چیزوں میں سے کسی ایک پر قادر نہ ہو تو لگاتار تین روزے رکھے۔ (3)
=====================================
(1) `بہارِ شریعت`، قَسَم کا بیان، جلد:2، حصہ:9، صفحہ:301، مجلس المدینۃ العلمیہ (دعوت اسلامی) .
(2) `تبیین الحقائق شرحِ کنز الدقائق`، کتاب الأیمان، جلد:3، صفحہ:430، مرکز اھل السنۃ برکات رضا.
(3) `الجوھرۃ النیرۃ` ،کتاب الأیمان، جلد:2، صفحہ:470، دار الکتب العلمیہ، بیروت.
*والله تعالیٰ اعلم بالصواب*
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^

