بدھ کے دن ناخن کاٹنا کیسا ہے


کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان شرع متین مسئلے ذیل میں کہ بدھ کے دن ناخن کاٹنا کیسا ہے اس کے بارے میں کیا ممانعت آئی ہے؟. 
[9 / 8 / 2025]



*بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*

`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
---------------------------------------------------------------------

Nails cutting بدھ کے دن ناخن کاٹنا کیسا ہے | محمد اویس العطاری المصباحی

بُدھ کے دن ناخن نہیں کاٹنا چاہئے کہ حدیث پاک میں ممانعت آئی ہے اس سے برص (جسم پر سفید داغ) کی بیماری ہونے کا اندیشہ ہے، ہاں اگر ناخن کاٹے ہوئے انتالیس دن ہو گئے اور چالیسواں دن بدھ کا آ جائے اگر آج بھی نہیں کاٹے تو چالیس دن سے زائد ہو جائیں گے، تو کاٹ سکتے ہیں کیونکہ چالیس دن سے زائد ناخن رکھنا مکروہِ تحریمی ہے۔



بُدھ کے دن ناخن کاٹنے کے متعلق  شہاب الدین علامہ احمد خفاجی حَنَفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نسیمُ الریاض میں فرماتے ہیں:”قص الاظفار وتقلیمھا سنۃ ورد النھی عنہ فی یوم الاربعاء وانہ یورث البرص و حکی عن بعض العلماء انہ فعلہ فنھی عنہ فقال لم یثبت ھذا فلحقہ البرص من ساعتہ فرای النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی منامہ فشکی الیہ مااصابہ فقال لہ الم تسمع نھی عنہ فقال لم یصح عندی فقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یکفیك انہ سمع ثم مسح بیدہ الشریفۃ فذھب مابہ فتاب عن مخالفۃ ماسمع“ 
   ترجمہ:ناخن کاٹنے سنت ہیں لیکن بدھ کے دن ایسا کرنے سے حدیث میں ممانعت وارد ہوئی کیونکہ اس سے مرض برص(جسم پر سفید داغ  پیدا ہوتا ہے۔) بعض اہل علم کی حکایت ہے کہ انھوں نے بدھ کے روز ناخن کٹوائے انھیں اس سے منع کیا گیا لیکن انھوں نے فرمایا یہ حدیث ثابت نہیں،انھیں فورا مرض برص لاحق ہوگیا پھر انھیں خواب میں حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور انھوں نے آپ سے مرض برص کی شکایت کی آپ نے ان سے فرمایا کیا تم نے بدھ کے روز ناخن کٹوانے کی ممانعت نہیں سنی تھی؟ انھوں نے جوابًا عرض کیا کہ ہمارے نزدیك وہ حدیث پایہ صحت کو نہیں پہنچی تھی۔ زاس پر حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمھارے لئے اتنا ہی کافی ہونا چاہئے تھا کہ حدیث سن لی تھی۔ازاں بعد آپ نے اپنا دست اقدس ان کے جسم پر پھیرا تو فورا مرض زائل ہوگیا۔اس کے بعد عالم موصوف نے اسی وقت سماع کردہ حدیث کی مخالفت سے توبہ کی۔“ (1)
یہ بعض علماء امام علامہ ابن الحاج مکی مالکی قدس سرہ العزیز تھے۔ جیسا کہ  علامہ طحطاوی نے حاشیہ در مختار میں تحریر فرمایا ہے۔ (2)
اگر چالیسواں دن بُدھ کا ہو تو اس کے متعلق *اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ* تحریر فرماتے ہیں:”اگر روز چہارشنبہ وجوب کا دن آجائے مثلًا انتالیس۳۹ دن سے نہیں تراشے تھے آج بدھ کو چالیسواں دن ہے اگرآج بھی نہیں تراشتا تو چالیس دن سے زائد ہوجائیں گے اور یہ ناجائز ومکروہ 
تحریمی ہے۔“ (3)


==============================

*(1)* `نسیمُ الریاض شرح الشفاء للقاضی عیاض`، جلد:1، صفحہ:344، مطبوعہ دار الفکر، بیروت.
*(2)* `حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار`، کتاب الحظر والاباحۃ، جلد:4، صفحہ:202، مطبوعہ دار المعرفۃ، بیروت.

*(3)* `فتاویٰ رضویہ`، جلد:22، صفحہ:685-686، رضا فاؤنڈیشن (دعوت اسلامی).

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 



*والله تعالٰى اعلم بالصواب‌‌*

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.