☝️خدا کا وجود، اس کی وحدانیت اور مذہب حق
The existence of God, His oneness, and the religion of truth
از قلم : محمد تسکین احمد (اعظم نگر ، کٹیہار ، بہار )
متعلم : الجامعة الاشرفیہ (مبارک پور، اعظم گڑھ ، اتر پردیش)
شعبان المعظم 1446 ھ مطابق 9 فروری5 202
----------------------------------------------
دنیا میں دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں ایک وہ جو خدا کو مانتے ہیں اور دوسرے وہ لوگ جو خدا کو نہیں مانتے۔ پھر خدا کو ماننے والے کی دو قسمیں ہیں۔ ایک خدا کو مانتے ہوں گے یا ایک سے زائد خدا کو ، ایک خدا کو ماننے والے بھی دو طرح کے پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جنھوں نے صحیح راستہ اختیار کیا ہو گا۔ دوسرے وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے غلط راستے اختیار کیا ہو گا۔ میں اپنے عناوین کے تحت سوال و جواب کے طریقے پر بات کروں گا۔ سوال نمبر ایک : ہم کیسے تسلیم کریں کہ دنیا کے نظام (system) کا کوئی چلانے والا ہے اور یہ خود بخود نہیں چلتا اور یہ کہ دنیا میں جتنی بھی شی (Thing) موجود ہے وہ قدرتی (Natural) نہیں ہے بلکہ اس کا کوئی بنانے والا ہے۔ جواب : ایک چھوٹی سی کشتی بغیر ناخدا ( ملاح) کے نہیں چل سکتی ، گھر کا نظام بغیر مالک مکان کے نہیں چل سکتا، کوئی ادارہ یا اسکول بغیر سربراہ کے نہیں چل پاتا ، کوئی ضلع یا صوبہ بغیر ودھا یک (MLA) اور مکھمنتری (Chief minister) کے نہیں چل سکتا اور کوئی ملک بغیر سلطان یا پرائم منسٹر کے نہیں چل سکتا تو یہ اتنی وسیع و عریض کائنات بغیر کسی کے چلائے کیسے چل سکتی ہے۔ یہ رات کا دن میں داخل ہونا، دن کا رات سے بدل جانا، شمس و قمر کا طلوع و غروب ہونا، انسانوں کا ایک گندے پانی کے قطرے سے وجود میں آنا۔ اس پر بھی یہ کہ ایک ہی شکم مادر سے کبھی لڑکا تو کبھی لڑکی کا پیدا ہونا۔ زمین میں ایک سوکھے بیچ کے دفن کرنے کے بعد اس بیچ کا لہلاتے ہوئے فصل کی شکل میں اگنا۔ ان جیسی تمام چیزوں سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انھیں وجود میں لانے والا، انھیں متحرک کرنے والا اور انھیں زندگی عطا کرنے والا کوئی تو ہے جو یہ تمام چیزیں انجام دے رہا ہے۔ اگر آپ کہیں کہ یہ تمام چیزیں فطری خود بخود (automatically) ہیں جیسا کہ آج کل بہت سی ایسی مشینیں ہیں جس میں Auto system ہے کہ اسے کسی کی ضرورت نہیں اور وہ خود بخود آن (off / on) ہوا کرتی ہیں، یوں ہی دنیا کا نظام بھی ہے کہ وہ خود بخود جاری ہے۔ تو میں جواب دوں گا کہ آپ نے جو Example مشین (Auto Machine) کی پیش کی ہے کہ دنیا بھی اس جیسی ہے کہ خود بخود چلتی ہے، تو جو Machines یا آج کل اور جو کچھ بھی Auto System سے چلتی ہیں انھیں پہلے کسی انسان نے ہی بنایا ہے پھر اس میں یہ معیار (Quality) دی کہ یہ خود بخود چل سکیں ، تو یہ Audio System والی machine بھی جب بذات خود وجود میں نہیں آئیں تو یہ عالم بذات خود کیسے وجود میں آسکتا ہے۔ وجود خدا پر دلیل : فطرت (Nature) کا تقاضا یہ ہے کہ جب بھی دو برتنوں کے پانی کو ملایا جائے تو پھر امتیاز نہیں کیا جا سکتا کہ کون سے برتن سے پانی کے کسی حصے کو نکالا گیا ہے ، یو ہیں اگر شکر ملے ہوئے پانی کو ( sugar mix water) نمک ملے ہوئے پانی (Salt mix water) میں ملا دیا جائے تو پھر دونوں میں تمیز نہیں کر سکتے کہ پانی کے کسی حصے میں نمکین پانی ملا ہے اور کس حصے میں شیریں، لیکن دنیا میں ایسے دو سمندر در بھی ہیں۔ کہ ان میں سے ایک کا پانی نمکین اور دوسرے کا شیر میں ہے۔ اور یہ دونوں سمندر آپس میں ایک جگہ ملتے ہیں لیکن ایک کا پانی دوسرے میں نہیں ملتا ، ان کا نام "بحر فارس “ اور ”بحر روم ہے۔ تو معلوم یہ ہوا کہ کوئی نا کوئی طاقت تو ہے جو ایک کو دوسرے سے ملنے نہیں دیتی۔ اور بغیر کسی ظاہری آڑ کے ایک کو دوسرے کے ساتھ ملنے سے مانع ہے۔ دوسری دلیل : دنیا میں یہ نظام رائج ہے کہ جب کسی کی موت ہو جائے تو اسے یا تو دفنا دیتے ہیں یا جلا دیتے ہیں یا پانی میں بہا دیتے ہیں۔ قبر میں دفنانے کے بعد عام طور پر مردے کا گوشت اور پوست یہاں تک کے کہ ہڈیاں بھی دو چار مہینے میں نیست و نابود ہو جاتی ہیں لیکن ایک یا دو سالوں میں آپ نے کئی ایسے معاملات سوشل میڈیا (social media) یا کسی اور ذرائع کے ذریعے سنا یاد یکھا ہو گا کہ کئی سال پرانی قبر جب کھولی گئی یا کہیں مزار شہید کیا گیا تو لاش (dead body) صحیح و سالم نکلی، حالانکہ فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی ہڈیاں تک کو بھی بوسیدہ ہو جانا چاہیے تھا۔ تو پتہ یہ چلا کہ کوئی طاقت تو ہے جو (dead body) میت کو بھی سڑنے گلنے سے روک رہی ہے کوئی ہستی تو ہے جس نے انسان کو ایسا بنایا کہ اسے کیڑے تک نہیں لگ سکتا مرنے کے بعد بھی اس کی کوئی حفاظت کرتا ہے اور وہ نہ رکھنے والی طاقت خدا کی طاقت ہے تو لا محالہ (Definitely) آپ کو ماننا پڑے گا کہ خدا کا وجود ( The existence of God) حق ہے اور وہی ہے جس نے دنیا اور دنیا میں موجود ہر شی کو بنایا۔ سوال نمبر دو : ہم نے تسلیم کیا کہ خدا کا وجو د حق ہے اور دنیا کا کوئی بنانے والا ہے۔ لیکن ہم اس بات کو کیسے تسلیم کریں کہ خالق (creater) صرف ایک ہی ہے۔ دو یا دو سے زیادہ خدا نہیں پایا جا سکتا؟ ہیں۔ جواب: انسان کے معلومات (information) کے حصول کے درج ذیل ذرائع ہوا کرتے ہیں۔ (1) کتابوں کے ذریعہ ، اب کے دور میں انٹرنیٹ کے ذریعہ سے بھی کچھ سننے یا دیکھنے سے معلومات حاصل ہوتے (۲) خود کے تجربات (experience) کے ذریعہ جیسے : انسان جب خود تفکر و تدبر کرتا ہے یا سیر و سفر وغیرہ کے ذریعے۔ اب مذکورہ تناظر میں دیکھیں کہ آپ ان میں سے جس ذرائع کے ذریعہ معلومات حاصل کرتے ہیں جیسے کتب (books) تو کسی مذہبی کتاب میں یہ نہیں لکھا ہے کہ کائنات (world) کا بنانے والا دو یا اس سے زیادہ ہے۔ بلکہ ہر مذہبی کتاب جیسے : قرآن مجید (Holy Quran) بائبل (Bible) توریت (Torah) زبور (Pslams) اور يجروید (yajarveda) رگوید (Rigveda) یوں ہی جتنی دوسری مذہبی کتابیں بھی ہیں سب میں یہی بات لکھی ہے جس کا مفہوم (Meaning) یہ ہے کہ وہ ایک ہی ہے جس نے پوری کائنات اور کائنات میں موجود ہر شی کو بنایا۔
خدا کی وحدانیت پر دلیل: کائنات کا بنانے والا اور اس کو چلانے والا صرف ایک ہی ہو سکتا ہے، اس لیے کہ اگر ایک ریاست یا ملک میں دو حاکم ہو جائیں تو ایسی صورت میں ملک تباہ و برباد ہو جائے گا، ایک چاہے گا کہ کسی چیز کی قیمت بڑھنی چاہئے اور ایک چاہے گا کہ قیمت گھٹنی چاہیے اس طرح ایک چاہے گا کہ فلاں ملک سے تجارت کیا جائے اور دوسرا چاہے گا کہ نہیں فلاں ملک سے نہ کیا جائے اور اس طرح دونوں میں جنگ و جدال کی نوبت آجائے گی اور ملک کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ تو اسی طرح اگر دنیا میں دو یا دو سے زیادہ خدا ہو جائے تو ایک چاہتا کہ بارش ہو اور ایک چاہتا کہ بارش نہ ہو ایک چاہتا کہ گرمی ہو دوسر ا چاہتا کہ سردی ہو اور پھر ضرور آپس میں اختلاف ہو جاتا اور اختلاف کی صورت میں دونوں میں سے ایک ہی غالب آتا ، جب ایک غالب آتا اور دوسرا مغلوب ، تو ظاہر ہے کہ جو مغلوب ہو جائے وہ خدا نہیں ہو سکتا کیوں کہ خدا وہی ہو سکتا ہے جو غالب ہو اور ساری طاقت (Power) اس کے پاس ہو کیوں کہ جو کائنات کو بسانے پر قادر ہو اس کا مغلوب ہو جانا خالق (Creater) ہونے کے مخالف ہے ، تو قطعی طور پر آپ کو ماننا پڑے گا کہ "خدا" ایک ہے۔ " اس بات کی تصدیق برطانوی سائنس داں نے (۲۰۱۸،۱۹۴۲) میں کی۔ اسٹفن ہاکنگ ( Stephen Hawking) کو بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے اوائل میں فزکس (Physics) کا سب سے بڑا سائنس داں تسلیم کیا جاتا ہے۔ وقت کی تاریخ لیک ہول (Leak hawl) اور اس کائنات کے بارے میں ایک جامع نظریہ پیش کیا اس نے پیچیدہ ریاضیاتی حساب کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ صرف ایک طاقت (Force) ہے جو پوری دنیا کو کنٹرول کر رہی ہے اور سائنس کے اصطلاح میں اسے سنگل اسٹرنگ نظریہ ( single string theory) کہا جاتا ہے اب تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان ایک مسلمہ طور پر مان لیا گیا ہے۔ سنگل اسنٹرنگ نظر یہ گویا ایک خدا کے حق میں سائنسی اساس فراہم کرتا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب خالص سائنسی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کا ئنات کا خدا ایک ہے۔“ فائدہ: جب ہم "خدا" کے تعلق سے گفتگو کر رہے ہیں تو ہمیں خدا کی ایک ایسی تعریف معلوم ہونی چاہیے جو خدا اور غیر خدا کے درمیان فرق پیدا کر دے۔ تعریف خدا ایک ہے ، وہ بے نیاز ہے (یعنی کسی کا محتاج نہیں ہے) نہ اس نے کسی کو جنم دیا اور نہ وہ کس سے پیدا ہوا اور کوئی اس کے برابر نہیں۔ خدا کی یہ تعریف ایسی ہے جس کے ذریعے ضرور خدا اور غیر خدا میں فرق پیدا ہو جائے گا۔ نوٹ: اس تعریف خدا سے معلوم ہوا کہ کوئی بھی انسان خدا نہیں ہو سکتا، بعض لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ خدا انسانی " اوتار " ( صورت اختیار کر کے زمین پر آتا ہے تاکہ ہمیں سیدھا راستہ دکھائے ، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے بلکہ یہ سب لوگوں کی گڑھی ہوئی باتیں ہیں اور نہ ہی یہ بات کسی مذہبی کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔
سوال نمبرتین: ہم نے تسلیم کیا کہ خدا کا وجود حق ہے اور یہ بھی تسلیم کیا کہ معبود (خدا) صرف ایک ہی ہے اب ہمیں یہ کیسے معلوم ہو گا کہ اللہ کے ایک ہونے کا تصور کسی مذہب میں صحیح ہے اور کو نسا مذہب حق پر ہے
جواب: آپ نے یہ تسلیم کر لیا کہ خدا کا وجو د حق ہے اور یہ بھی تسلیم کر لیا کہ خدا صرف ایک ہی ہے تو وہی مذہب حق پر ہو گا جس میں یہ بات پائی جائے، اور ہر مذہب کو اس کے اصول و ضوابط (جو معبود برحق کے وجود اور اس کی وحدانیت کے لیے ضروری ہے) کے ذریعے سے جانا جاتا ہے اور اس کو صحیح یا غیر صحیح ٹھہرایا جاتا ہے۔ . آیئے ہم چند مذاہب کو لے کر ایک تجزیہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کسی مذہب میں خدا کی وحدانیت کا صحیح تصور ہے۔
مذهب عیسائیت اس میں تین خداؤوں کا تصور ہے۔
مذهب يهوديت: اس میں دو خداؤوں کا تصور ہے۔
مذهب مجوسیت: اس میں آگ کی پوجا کی جاتی ہے ہے۔ مذهب بده ازم: اس میں انسان کی عبادت کی جاتی ہے۔ مذهب هندوازم ( سناتن دھرم) اس میں متعدد خداؤوں کا تصور ہے۔
مذهب اسلام: اس میں صرف ایک خدا کی عبادت کی جاتی ہے۔ اس خدا ئی جو بے نیاز ہے نہ کسی کو جنم دیا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور کوئی اس کے برابر نہیں۔ اور جب ایسا ہے تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ ایک خدا کا تصور صرف اسلام ہی میں ہے، تو پتا چلا کہ اس کے سواکسی دین کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ رہ گئی بات اصول و ضوابط کی تو ہر مذہب کے ماننے والوں (followers) کے لیے اصول وضوابط کی ایک کتاب ہوا کرتی ہے۔ اور ہر مذہبی کتاب کے اصول وضوابط کے تعلق سے ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ یہ انسان نے لکھی ہے۔ اور انسان کے لکھے ہوئے قوانین پر غور و تامل کیا جائے تو اس میں کوئی نہ کوئی نقص (defect) ضرور پایا جاتا ہے۔ لیکن چار مذہبی کتاب ایسے ہیں جن کے تعلق سے ہمیں یہ معلوم ہے کہ انھیں انسانوں نے نہیں لکھا اور وہ یہ ہیں: قرآن مجید ، توریت، زبور اور انجیل، لیکن لوگوں نے اخیر کی ان تین کتابوں (توریت، زبور اور انجیل) میں بھی ردو بدل کر دی ہے اس لیے اب ان تینوں میں بھی نقص پایا جاتا ہے۔ سوائے قرآن مجید کہ اس میں تحریف (رد و بدل نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود نازل کرنے والے ( قرآن اتارنے والے) نے لی ہے ۔ چنانچہ قرآن میں ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ (الحجر 15 آیت (9) ترجمہ: اور بے شک ہم نے اس قرآن کو نازل کیا اور بے شک ہم خود اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ اب رہی بات کہ آخر یہ کتاب کسی نے اتاری ہے تو اس کا جواب خود قرآن میں ہے۔ تَنْزِيلُ الْكِتَبِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (المومن 40 آیت (12)
ترجمه : کتاب (قرآن) کا نازل فرمانا اللہ کی طرف سے ہے جو عزت والا علم والا ہے۔ اور اس کتاب میں کوئی نقص و عیب (Defect) نہیں پایا جاسکتا جس کی دلیل یہ ہے :
ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ ( البقرة : 2 آیت (2)
ترجمه: یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ اور قرآن مقدس کا اللہ کی کتاب ہونے کا ایک پختہ ثبوت یہ ہے کہ قرآن نے خود قیامت تک کے لیے چیلنج (Challenge) دے دیا ہے کہ اس جیسی چھوٹی سی سورت (part) پوری دنیا مل کر بھی پیش نہیں کر سکتی چناں چہ قرآن میں ہے : وَإِنْ كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ الله . ( البقرة : 2 آیت (23) ترجمہ: اور اگر تمھیں اس کتاب کے بارے میں کوئی شک ہو جو ہم نے اپنے خاص بندے (محمد صلی می ایم) پر نازل کی ہے تو تم اس جیسی ایک صورت بنالاؤ اور اللہ کے علاوہ اپنے سب مدد گاروں کو بلا لو۔ تو ان باتوں سے پتا چلتا ہے کہ اسلام کے اصول ہی صحیح سالم ہیں۔ باقی آسمانی کتب جیسے توریت زبور اور انجیل میں بھی لوگوں نے اپنی خواہشات کے مطابق تبدیلی کر دی ہے۔ اور چوں کہ " قرآن " اسلام کے اصول کی کتاب ہے اس لیے لا محالہ (Definitely) آپ کو ماننا پڑے گا کہ مذہب اسلام ہی سچا مذہب ( the religion of (truth) ہے۔ کیوں کہ جس قرآن کو ابھی آپ نے حق مانا ہے اسی قرآن میں ہے: إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَام " ( العمران : 3 آیت (19)
ترجمہ: بے شک اللہ کے نزدیک اسلام ہی دین ہے۔ مذهب اسلام کی خصوصیت: اسلام میں اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لیے ہر ایک باریک سے بار یک چیز کو بھی بیان کر دیا ہے ، جس کے ذریعہ بندہ اپنی زندگی آسانی سے گزار سکے اور اسے کسی نقصان کا سامنانہ کرنا پڑے یہاں تک کہ اسلام نے بندے کو یہ بھی بتادیا ہے کہ اگر کھانے میں مکھی گر جائے تو اسے کھانے میں پورا ڈبو دو پھر پھینکو اس کے پیچھے حکمت اور وجہ یہ ہے کہ مکھی جب کھانے میں گرتی ہے تو اپنے اس پر (wing) کو کھانے میں ڈبوتی ہے جس میں بیماری ہے اور جس پر میں شفا ہے اس پر کو نہیں ڈبوتی یہی سبب ہے کہ کہا گیا کہ مکھی کو پوری طرح کھانے میں ڈبو دو۔ آج اس بات کی تصدیق سائنس دانوں نے بھی کر دی ہے۔ کیا کسی مذہب میں ایسی بار یک چیزیں بتائی گئی ہیں ؟ ہر گز نہیں، لیکن مذہب اسلام میں ایسی ہزاروں باتیں بتائی گئیں ہیں جسے ایک ضخیم (موٹی) کتاب میں بھی نہیں سما سکتا۔ اعتراض : ہم نے تسلیم کیا کہ مذہب اسلام حق ہے لیکن اس سے یہ کہاں لازم آتا ہے کہ ہمیں اسے فولو (Follow) کرنا بھی ضروری ہے ؟ جواب: جب آپ نے مذہب اسلام کو حق پر تصور کیا تو اس سے آپ پر اس کا فولو کرنا بھی لازم و ضروری ہوا۔ وہ اس طور پر کہ اگر آپ مذہب اسلام کو فولو نہیں کریں گے تو گویا کہ آپ ایسے طور طریقے پر چلیں گے جو مذہب اسلام نہیں ہے۔
اس لیے کہ "مذہب" کہتے ہیں: دین، طور طریقہ ، ایمان اور دھرم کو۔ اور آپ نے مذہب اسلام کے حق پر ہونے کا تصور کر لیا ہے۔ تو مذہب اسلام کے قوانین کی کتاب ہی میں یہ بات مرسوم ہے: وَ مَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَسِرِينَ" ( العمران : )85( 3 آیت
ترجمہ: اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہر گز اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں زیا کاروں میں سے ہو گا ( نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا۔) تو لا محالہ آپ کو ماننا پڑے گا کہ اسلام کے حق پر ہونے کا تصور ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کو فولو (follow) کرنا بھی ضروری ہے۔ اعتراض: آپ کے مطابق جو ایک خدا کی عبادت کرنے والا اور مذہب اسلام کو فولو (Follow) کرنے والا ہے ، وہ بندہ سیدھے راستے پر چلنے والا ہے۔ پھر آپ قادیانی، رافضی، وہابی غیر مقلدین، دیو بندی ، شیعہ اور صلح کلی کو گمراہ و کافر کیوں کہتے ہیں ؟ جواب: ہم نے یہ نہیں کہا کہ مذہب اسلام کو فولو کرنے والا ہر شخص صراط مستقیم ( سیدھے راستے پر چلنے والا ہے ، بلکہ ہم نے تمہید (ابتدائے مضمون میں ہی اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ ایک خدا کو ماننے والے بھی دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جو صحیح راستہ اختیار کیا ہو گا دو سر اوہ جو غلط راستہ اختیار کیا ہو گا۔ رہ گئی بات قادیانی اور صلح کلی وغیرہ کے مکمل طور پر اسلام کو نہ فولو کرنے کی۔ چوں کہ ہر مذہب کے اصول وضوابط ہوتے ہیں جیسا کہ ہر ملک کا اپنا آئین (constitution) ہوا کرتا ہے، یوں ہی مذہب اسلام کے جتنے قوانین ہیں ان میں سے اہم قانون یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول (Massenger) صلی الله یم اور کلام اللہ جسے " قرآن مجید " کہتے ہیں اس میں لکھی ہوئی ہر بات کو ماننا اور اس پر ایمان لانا اور جو ان تمام کو مکمل طور سے نہ مانے وہ صحیح راستے پر نہیں، اس لیے کہ قرآن مجید میں ہے: قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْكَفِرِ " ( العمران 3 آيت (32) آپ فرمادیجئے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو (حکم مانو) پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ کافروں کو پسند نہیں فرماتا۔ تو ان حضرات ( قادیانی اور صلح کلی وغیرہ) کے بہت سے ایسے عقائد ہیں جو " قرآن " یا " حدیث" کے خلاف ہیں۔ میں ان کے عقائد فاسدہ (Incorrect beliefs) میں سے صرف ایک بیان کروں گا۔ مگر اُن کے عقائد کو جاننے سے پہلے اس بات کا جاننا ضروری ہے کہ جس طرح " قرآن " اللہ کا کلام ہے اسی طرح " حدیث " اللہ کے نبی (Prophet) محمد صلی علیم کا کلام ہے اور انھوں نے اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کی بلکہ آپ نے وہی فرمایا: جو اللہ تبارک و تعالی نے آپ پر وحی (Revelation) کی، جس کی دلیل (reference) قرآن میں یہ ہے: وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (النجم 53 آیت 3,4)
ترجمہ: وہ کوئی بات خواہش سے نہیں کہتے وہ وحی ہوتی ہے جو انھیں کی جاتی ہے۔ یوں ہی دوسرے مقام پر ہے: إِن أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى (الاحقاف 46 آیت (9)
ترجمہ: میں تو اس کا تابع ہوں جو مجھے وحی ہوتی ہے۔ اور بھی ایک جگہ اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا: " مَنْ يُطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ : " (النساء : 3 آیت (80)
ترجمہ : جو رسول کی اطاعت کرے تو اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ ان حوالاجات کی روشنی میں معلوم ہوا گویا کہ حضور صلی ا ہم نے جو بھی فرمایا وہ دراصل اللہ تعالی ہی کا فرمان ہے اور جس نے نبی کو نین صلی علیہم کا حکم مانا اور ان کی باتوں کی تصدیق کی تو گویا کہ اس نے اللہ کا حکم مانا اور اس کے باتوں کی تصدیق کی اور جس نے حضور صلی الہام کا حکم نہ مانای حضور کی باتوں کو جھٹلایا تو اس نے دراصل اللہ رب العزت کا حکم نہ مانا اور اللہ رب العزت کی باتوں کی تصدیق نہیں کی۔ اب میں اُن کے عقائد فاسدہ کو درج کرتا ہوں جس کے تحت ان شاء اللہ آپ کو یہ سمجھ آجائے گی کہ کسی بنیاد پر انہیں گمراہ یا کافر کیا جاتا ہے۔
(1) قادیانی: "مرزا غلام احمد قادیانی" کے ماننے والے (Followers) کو کہا جاتا ہے اس شخص نے حضور (محمد صلی علیم) کے بعد اپنی نبوت کا دعوی کیا (اور انبیاء کرام علیہم السلام کی شان میں نہایت بے باکی کے ساتھ گستاخیاں کیں، خصوصاً حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ طیبہ صدیقہ مریم کی شان میں ) ان عقائد کی وجہ سے ان کا کافر ہونالازم ہے۔ اس لیے کہ قرآن مجید میں آیا ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَ لكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيِّنَ" (الاحزاب )40( 33) آیت( ترجمه: محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔ اور حدیث نبوی میں ہے: انا خاتم النبيين لا نبي بعدي" ( جامع الترمذى (2211) ترجمه : میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس بنیاد پر اس فرقے کو گمراہ اور کافر کہا جاتا ہے۔
(۲) رافضی ان کے عقائد فاسدہ (incorrect thoughts) میں سے ایک عقیدہ یہ ہے کہ " قرآن مجید محفوظ نہیں بلکہ اس میں سے کچھ پارے یا سورتیں یا آیتیں یا الفاظ ، امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا دیگر صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے نکال دیا ہے یہ بھی صریح (explicitly) کفر و انکار ہے ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ خود ارشاد فرماتا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ " ( الحجر : 15 آیت (9)
ترجمه: بے شک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بے شک ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔ تو جس کا نگہبان اللہ تعالی خود ہے اسے کوئی کیسے بدل سکتا ہے ؟ اس بنیاد پر اس فرقے کو گمراہ اور کافر کہا جاتا ہے۔
(۳) وهابی : ان کے عقائد فاسدہ میں سے ایک عقیدہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا ماننا ہے ہے کہ حضرت ( محمد صلی علیکم ) مر کر مٹی میں مل گئے (معاذ اللہ ) جب کہ حدیث نبوی ہے: " ان الله حرم على الأرض ان تأكل أجساد الانبياء فبنى الله حي يرزق " ( ابن ماجه في السنن )1637( 1/524 الرقم
( ترجمہ: اللہ تعالی نے انبیا علیہم السلام کے اجسام کو کھانا زمین پر حرام کر دیا ہے تو اللہ کے نبی زندہ ہیں روزی دیے جاتے ہیں۔ اس بنیاد پر اس فرقہ کو گمراہ و کافر کہا جاتا ہے۔ (۴) غیر مقلدین ان کا بھی عقیدہ یہی ہے جو " وہابیوں " کا ہے۔ اور یہ لوگ بھی انبیا علیہم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی شان میں گستاخی کرتے ہیں جب کہ انبیائے کرام علیہم کی تعظیم و توقیر واجب ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: " لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ " (الفتح: 48 آيت (9)
ترجمہ: تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو۔ تو اسی سبب اس فرقے کو گمراہ و کافر کہا جاتا ہے۔
(۵) دیوبندی: یہ ایک نیا فرقہ ہے جو تقلید ( پیروی، اطاعت) کا منکر ہے اور یہ " وہابی اور غیر مقلدین " کو کافر نہیں جانتے ۔ ان کے عقائد فاسدہ میں سے ایک عقیدہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا بہت بڑا عالم جن کو یہ لوگ فولو کرتے ہیں جیسے : رشید احمد گنگوہی انھوں نے اپنی کتاب براہین قاطعہ " میں رسول اللہ صلی علی ایم کا علم " شیطان " کے علم سے کم تر بتایا، یو ہیں "مولوی اشر فعلی تھانوی " نے اپنی کتاب "حفظ الایمان " میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کے علم غیب کو جانوروں، پاگلوں، بچوں وغیرہ درج ذیل چیزوں سے تشبیہ دی یعنی یہ لوگ حضور کے علم غیب کے منکر ہیں۔ جب کہ قرآن مجید میں ہے: وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِين " ( التكوير : 81 آيت (24) ترجمہ: اور یہ (نبی) غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ تو اس آیت سے معلوم ہوا کہ تاجدار رسالت صلی اقلیم کو اللہ تعالیٰ نے غیب کا علم عطا فرمایا ہے اور آپ صلی علیہ کیم نے اس میں سے بہت کچھ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو بتایا ہے اور بتانے میں آپ بخیلی نہیں کرتے تھے۔
یوں ہی دوسری جگہ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے: عَلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا " (الجن : 72 آیت 2726) ترجمه : غیب کا جاننے والا اپنے غیب پر کسی کو اطلاع نہیں دیتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے کہ ان کے آگے پیچھے پہرے مقرر کر دیتا ہے۔ یعنی اللہ تعالی غیب کا جاننے والا ہے تو وہ اپنے اس غیب پر جس کا علم اس کے ساتھ خاص ہے ، اپنے پسندیدہ رسولوں کے علاوہ کسی کو کامل اطلاع نہیں دیتا جس سے حقیقت حال مکمل طور پر منکشف ہو جائے اور بعض غیوب کا علم اپنے پسندیدہ رسولوں کو اس لیے دیتا ہے تا کہ وہ علم غیب ان کے لیے معجزہ ہو۔ تو انھیں عقائد فاسدہ کی وجہ سے اس فرقہ کو گمراہ و کافر کہا جاتا ہے۔
(1) شیعہ ان لوگوں کے عقائد فاسدہ میں سے ایک عقیدہ یہ ہے کہ یہ لوگ ایک ساتھ نو عورتوں کو اپنے نکاح میں جمع کرنا حلال جانتے ہیں جب کہ یہ قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلثَ وَ رُبع " ( النساء 4 آیت (3)
ترجمه : تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمھیں بھائیں (خوش آئیں ) دو دو اور تین تین اور چار چار۔ یعنی اسلام میں بیک وقت چار عورتوں سے نکاح کرنا حلال ہے اور اس خبر کی تصدیق حضور صلی علی ایم کے اس قول سے ہوتی ہے۔
حديث : وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِي أَسْلَمَ ، وَلَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَسْلَمْنَ مَعَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمْسِكْ أَرْبَعًا، وَفَارِقُ سَائِرَهُنَّ" (سنن ابي )1953/40 داؤد النكاح
ترجمه: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی نے اسلام قبول کیا، جاہلیت میں ان کی دس بیویاں تھیں وہ سب بھی ان کے ساتھ اسلام لے آئیں تو نبی اکرم صلی للہ ہم نے انھیں حکم دیا کہ وہ ان میں سے کسی چار کو منتخب کر لیں۔
اور بھی ان کے بہت سے عقائد فاسدہ ہیں جیسے: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفہ اول نہ ماننا وغیرہ تو ان عقائد فاسدہ کی وجہ سے انھیں گمراہ و کافر کہا جاتا ہے۔ (4) صلح کلی یہ فرقہ چند سال پہلے وجود میں آیا ان کے عقائد فاسدہ میں سے ایک عقیدہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ کافروں کو کافر کہنا درست نہیں ، ہو سکتا ہے کہ وہ مرتے وقت یا اس سے پہلے ایمان لے آئے جب کہ اللہ تعالی نے خود قرآن مجید میں کافروں کو کافر کہہ کر مخاطب فرمایا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: يَأَيُّهَا الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَ ( التحريم (66 آيت (7) ترجمه: اے کا فرو! آج بہانے نہ بناؤ۔ اس وجہ سے انھیں گمراہ و بد مذہب کہا جاتا ہے۔
بہر کیف اگر آپ اسلام کو اس کے تمام شرائط و فرائص کے ساتھ فولو کریں ، اور " اسلام " کو عملی طور پر ( practically) اپنی زندگی میں شامل کریں تو ہر جگہ کامیابی آپ کا مقدر ہو گا۔ ان دلائل و براہین کے باوجود وہ شخص مذہب " اسلام" کی طرف راغب نہیں ہو گا جن کے متعلق قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے۔ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ وَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (البقرة 2 آيت (6)
ترجمہ: بے شک وہ لوگ جن کی قسمت میں کفر ہے ان کے لیے برابر ہے کہ آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ میں نے یہ مضمون خدائے لاشریک (جو رحمن و رحیم اور ستار و غفور ہے) کی رضا کے لیے تحریر کیا، تاکہ اس کے ذریعہ وہ لوگ جو " مذہب اسلام " سے بالکل نا آشنا و ناواقف ہیں انہیں دین کی (مذہب اسلام کی) کچھ معرفت حاصل ہو جائے اور جو بے دین ہیں اسے پڑھ کر دین حق کی طرف راغب ہو جائیں اس پر میں اپنے مضمون کا اختتام کرتا ہوں۔
رب قدیر سے دعا گو ہوں کہ اس کے قارئین کو راہ راست پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی ﷲ علیہ وسلم
کٹھن ہے بہت راہ حق کی مسافت
بہت متحد ہو کے چلنا پڑے گا
وہ ایمان جس سے جلائے نہ آتش
اس ایماں کی خاطر بھی جلنا پڑے گا۔
بدل دیں نہ تم کو زمانے کی رسمیں
تمھیں نظم دنیا بدلنا پڑے گا۔
-------------------------------------------مزید عقائد اہل سنت والجماعت کی صداقت و حقانیت اس موضوع کو پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں

.png)