حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کی سوانحِ حیات



مختصر سوانحِ حیات الشاہ امام احمد رضا خان قادری بریلوی| محمد کونین صدیقی کٹیہاری




 اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی مختصر سوانح حیات


از قلم: محمد کونین صدیقی کٹیہاری

متعلم: ازہر ہند الجامعة الأشرفية   مبارک پور اعظم گڑھ یوپی

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

اسلامی تاریخ اپنے دامن میں ایسے نفوسِ قدسیہ کے انوار و تجلیات سمیٹے ہوئے ہے جنھوں نے ہر عہدِ ظلمت میں چراغِ ہدایت روشن کیے، ہر طوفانِ فتنہ گر کے مقابلے میں حصارِ شریعت قائم رکھا، اور ملتِ اسلامیہ کو غفلت و بے اعتنائی اور ضلالت و گمراہی کی وادیوں سے نکال کر رشد و ہدایت کی شاہراہ پر گامزن فرمایا،  یہ وہ برگزیدہ ہستیاں ہیں جن کے وجودِ مسعود سے دین کو دوام ملا، ایمان کو استحکام ملا اور امت کو یقین و اعتماد کی قوت نصیب ہوئی،انھی اجلۂ اولیا و اصفیاے اُمّت میں ایک ذات ایسی بھی جلوہ گر ہوئی جو بیک وقت علم و عرفان کا بحرِ بے کنار ٹہری اور عشق و محبت کا کوہِ وقار، جس کی فکر میں فقہ و فتویٰ کی صلابت ہے اور جس کی روح میں عرفان و ولایت کی لطافت ہے؛ جو ایک طرف مسندِ افتا پر مجتہدانہ بصیرت کے ساتھ فروزاں ہے اور دوسری طرف محرابِ ولایت پر عارفانہ جلال کے ساتھ درخشاں ہے، وہ شیخ الاسلام والمسلمین ،آیتِ من آیاتِ رب العالمین ،معجزۃِ من معجزات سید المرسلین ،امامِ علم و فن، امامِ عشق و محبت، مرجعِ اہلِ سنت و طریقت، مصنفِ کتبِ کثیرہ، قاطعِ کفر و ضلالت، ردِ شرک و بدعت، ضاربِ فرقۂ باطلہ بالدلائل، حامیِ سنت و ماحیِ بدعت، ظلِ مسلکِ امامِ اعظم ابوحنیفہؒ، مجددِ دین و ملت، تاجدارِ مسندِ افتا، حضور سیدی و سندی، مرشدی اعلیٰ حضرت، عظیم البرکت،رفیع الدرجت، الشاہ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان ہیں۔


ولادتِ باسعادت ۱۰/ شوال المکرم ١٢٧٢ھ مطابق ١٤/ جون ۱۸٥٦ء کو بریلی شریف میں ہوئی،

والدِ بزرگوار حضرت علامہ نقی علی خان علیہ الرحمہ خود ایک بلند پایہ عالم دین تھے، بچپن ہی سے اعلیٰ حضرت کی نفیس طبیعت فہم و فراست، بصیرت و دور بینی،شوقِ مطالعہ اور عشقِ رسول ﷺ سے معمور تھی۔

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے صرف تیرہ برس دس ماہ کی عمر میں اپنے والد محترم سے تقریباً اکیس فنون: علم قرآن، علم تفسیر، علم حدیث، اصول حدیث، کتب فقہ حنفی، کتب فقہ شافعی و کتب فقہ مالکی و کتب فقہ حنبلی، اصول فقہ، جدل مہذب، علم العقائد و علم الکلام، علم نجوم، علم صرف، علم معانی، علم بیان، علم بدیع، علم منطق، علم مناظرہ، علم فلسفہ  مدلسہ، ابتدائی علم تکحیہ، ابتدائی علم ہیئت، علم حساب تا جمع، تفریق، ضرب، تقسیم اور ابتدائی علم ہندسہ سے فارغ التحصیل ہوئے اور دستار فضیلت سے نوازے گئے،

نیز اپنے مرشد گرامی خاتم الاکابر شاہ آل رسول مارہروی علیہ الرحمہ  سے اکتساب علم اور انتفاع  فیض حاصل کیا، پھر  سید ابو الحسین احمد نوری میاں قدس سرہ سے علم تکسیر و علم جفر حاصل کیا۔

پھر خداداد صلاحیت سے تجوید، تصوف، سلوک، علم اخلاق، اسماء الرجال، سیر، تواریخ، لغت، ادب، مع جملہ فنون، ارثماطیقی، جبرو مقابلہ، حساب ستیسنی، لوغارثمات یعنی لاگرتھم، علم التوقیت، مناظرہ، علم الاکر، زیجات، مثلث کروی، مثلث مسطح، ہیئت جدیدہ یعنی انگریزی فلسفہ، مربعات، منتہی علم جفر، علم زائچہ، علم فرائض، نظم عربی، نظم فارسی، نظم ہندی، انشاء نثر عربی، انشاء نثر فارسی، انشاء نثر ہندی، خط نسخ، خط نستعلیق، منتہی علم حساب، منتہی علم ہیئت، منتہی علم ہندسہ، منتہی علم تکسیر، علم رسم خط قرآن مجید، علم تاریخ گوئی جسے کرونوگرام (chronogram) بھی کہا جاتا ہے، یہ فہم و ادراک سے بالاتر ہے کہ اپنی مختصر سی زندگی میں مزید کتنے علوم و فنون حاصل کیے ہوں گے، حاصل کلام یہ کہ ان کے معزز شاگرد میں علامہ ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ نے 1327ھ مطابق 1909ء میں کل تصانیف کی ایک فہرست بنام  "المجمل المعدد لتالیفات المجدد"  رکھا۔




فقہ اور ان کے جزئیات میں وہ دسترس حاصل تھی کہ برصغیر ہی نہیں بلکہ عرب و عجم کے اکابر علما نے موصوف کی فقہی بصیرت کو تسلیم کیا، چنانچہ حضور اعلیٰ حضرت کی تصانیف میں "العطایا النبویہ فی الفتاوی رضویہ" عالم اسلام میں ایک عظیم بیش بہا علمی خزانہ ہے، جس میں ہزاروں مسائل کے شرعی جوابات ملتے ہیں، بعد ازاں تقریباً ایک ہزار سے زائد مسودہ تحریر فرما چکے ہیں، جس موضوع پر قلم فرسائی فرماتے اس پر کمال و جامع اور رنگارنگی تنوعاتی تحریر کے سوتے پھوٹتے، جس میں جلالِ علم بھی ہے اور جمالِ عشق بھی جملہ کتب کا احاطہ کرنا مجھ بے بضاعت کے لیے دشوار گزار امر ہے، درج ذیل کچھ کتب و رسائل نامزد ہیں،
"کنز الایمان" الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیہ" "حسام الحرمین" "نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمان" "جد الممتار علی الردالمختار"  وغیرہ...
یہی وجہ ہے کہ کہا گیا
"ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم،
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں۔"

حضور اعلیٰ حضرت شعر و شاعری کیے تو امام الکلام ہو گئے نعتیہ ادب میں "بحرِ بیکراں" ہے، خاص طور سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی شان پاک میں محبت آمیز کلام"مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام" کو زبانِ خلق نے لافانی بنا دیا، شاعری میں فقط اشعار حسنِ لفظ ہی نہیں بلکہ عقیدہ و ایمان کے ترجمان بھی ہیں۔
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کی اصل پہچان عشق و محبتِ رسول ﷺ ہے، جن کا ہر قول، ہر تحریر، ہر فتویٰ، ہر شعر اسی عشق سے لبریز ہے، اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے پوری زندگی یہی پیغام دیا کہ
جان ہے عشق مصطفیٰ روز فزوں کرے خدا،
جس کو ہو درد کا مزہ نازِ دوا اٹھاۓ کیوں۔
فتاویٰ نویسی میں تقریباً چالیس برس سے زیادہ عرصہ تک امت کے شرعی مسائل کا جواب دییے، جس کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔
مسلک اہلِ سنت کی حفاظت و صیانت کی اور وہابیت، دیوبندیت، نیچریت، قادیانیت اور دیگر فتنہ پرور کے خلاف قلم و زبان سے احقاق حق ابطال باطل کرتے رہے۔

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے یہ نظریہ پیش کیا کہ دینِ اسلام کو سمجھنے کے لیے عقل کی روشنی کافی نہیں، بلکہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ اور اتباعِ شریعت ہی اصل راہ ہے، جن کی فکر کا مرکز و محور یہی ہے کہ مسلمان ہر میدان میں ترقی کی راہ پر گامزن رہے، لیکن اپنے ایمان و عشقِ رسول ﷺ کو ہر حال میں مقدم رکھے۔
وصال:
۲۵ صفر المظفر ۱۳۴۰ھ مطابق ۲۸ اکتوبر ۱۹۲۱ء کو یہ آفتابِ علم و معرفت غروب ہوگیا اور بریلی شریف کی خاک میں ہمیشہ کے لیے سو گیا، مگر اعلیٰ حضرت کی تعلیمات آج بھی زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گی۔ ﴿ان شاء اللّٰہ﴾

وادی رضا کی کوہِ ہمالہ رضا کا ہے،
جس سمت دیکھیے وہ علاقہ رضا کا ہے،
اگلوں نے تو لکھا ہے بہت کچھ علم دین پر،
 اس صدی میں جو کچھ ہے وہ تنہا رضا کا ہے۔


-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------





 حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان کے چھوٹے شہزادے حضور مفتی اعظم ہند علامہ محمد مصطفیٰ رضا خان بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے متعلق پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈  



Post a Comment

4 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.