عقائدِ اہل سنت کی صداقت و حقانیت
از قلم: محمد کونین صدیقی کٹیہاری
------------------------------------------------------------------------------------------
عقائدِ اہل سنت و جماعت، جو در حقیقت اسلام کے مستند اور متوازن نظریات ہی کا خلاصہ ہے۔ ان کے فہم و ادراک کے بغیر اسلام کا عقائد کا صحیح مزاج اور واقعی خد و خال رو بہ ظہور نہیں ہوتا۔ یہ عقائد جو نصوصِ قطعیہ اور اجماعِ امت پر مبنی ہیں، ایک ایسے کائناتی نظامِ ہدایت کا جزوِ لاینفک ہے، جو احقاق حق و ابطالِ باطل کے معرکے میں میزانِ عدل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اہل سنت کے عقائد کی اساس قرآنِ کریم اور احادیثِ صحیحہ پر ہے، جن کی صحت پر امت مسلمہ کا اجماع ہے، یہ عقائد ایسی ابدی حقیقتوں پر مبنی ہیں کہ ان سے منہ چڑانے والا گویا اسلامیات کی صحیح تعبیر سے گریز کررہا ہے۔
عقائدِ اہل سنت و جماعت کے علمی ورثے میں امام ابو الحسن علی بن اسماعیل بن اسحاق اشعری رحمۃ اللّٰہ علیہ اور امام محمد بن محمد بن محمود ابو المنصور ماتریدی سمرقندی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا خصوصی کردار رہا ہے، علم کلام و عقائد کا شاہکار علم انھیں کی بے بہا کاوشوں کا نتیجہ ہے، ان حضرات نے فلسفہ، منطق اور علمِ کلام جیسے مختلف علوم و فنون کے اصولوں کو استعمال کرتے ہوۓ گمراہ فرقوں کا تعاقب کیا، ان بزرگوں نے فرقۂ معتزلہ کی عقلیت پسندی اور دیگر انحرافات کا رد کرتے ہوۓ دین کی بنیادوں کو مضبوط کیا، ان کا علمی منہج عقائد کو عقل و نقل کے امتزاج سے پیش کرتا ہے، جو اہل سنّت کی متوازن فکری بنیاد ہے۔
نیز امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللّٰہ علیہ نے علمِ عقائد کو ایک مضبوط فکری اور علمی بنیاد فراہم کی، جو بعد کے ادوار میں امت کے لیے ایک مینارِ نور ثابت ہوئی، انھوں نے "فقہ اکبر" کے ذریعے عقائدِ اسلامیہ کو منظم اور جامع انداز میں مرتب کیا، جس میں باری تعالیٰ کی وحدانیت، صفاتِ الٰہیہ، نبوت کا خاتمہ، اور حشر و نشر جیسے اساسی موضوعات کو بیان کیا، ان کی علمی بصیرت اُس وقت امت کے لیے ڈھال بنی جب معتزلہ، جہمیہ، اور قدریہ جیسے گمراہ فرقے اسلامی اصولوں کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے تھے، امام اعظم رحمہ اللّٰہ کے نزدیک عقائد کی بنیاد قرآن و سنت کے نصوص پر ہے، اور انھوں نے فلسفیانہ و منطقی اعتراضات کا جواب بھی انھی بنیادوں پر دیا۔
امام غزالی رحمہ اللہ: فلسفیانہ فتنوں کا رد کرتے ہوئے اسلامی عقائد کی فلسفیانہ بنیادوں پر حفاظت کی۔
شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ: انھوں نے تصوف اور شریعت کے امتزاج سے اہل سنت کی عملی و روحانی اصلاح کی۔
شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ: بر صغیر میں اہل سنت کے عقائد کی حفاظت کی اور حدیث و فقہ کو عام کیا۔
اور ماضی قریب کے مجدد اعظم، امام علم و فن، قاطع کفر و ضلالت، حضور اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رحمہ اللہ: انہوں نے برصغیر میں اہل سنت کے عقائد کی بقا کے لیے بدعات کا قلع قمع کیا، سیکڑوں کتابیں لکھیں اور دین کو جدید فتنوں سے بچایا۔
روز اول سے عصر حاضر تک جتنے بھی مجدّدینِ اسلام نے اہل سنّت و جماعت کی صداقت کا پرچم بلند کیا، اور حقانیت کو تحریر، تقریر، مناظرہ اور تنظیمی اعتبار سے دلائل کی بنیاد پر جملہ باطل نظریات سے بچایا ان تمام ہستیوں کا ذکر کرنا اس چھوٹے سے مضمون میں مشکل ہے، پھر بھی کچھ نفوسِ قدسیہ کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ عقائد اہل سنت کی حفاظت و صیانت ان کے ان کے جگ مگ آج تک دلوں کے سکون کا باعث ہیں۔
نہایت اختصار کے ساتھ عقائد اہل سنت میں سے اہم اور بنیادی عقائد کا تجزیہ ہم پیش کررہے ہیں:
- عقیدۂ توحید: ایک پاکیزہ اور لطیف تصور جو ذاتِ باری تعالیٰ کی وحدانیت، صفات کی تنزیہہ، اور افعال کی تخصیص کو یکجا کرتا ہے۔ تشبیہ یا تعطیل کی کوئی گنجائش نہیں۔
- عقیدۂ ختمِ نبوت: خاتم النبیّین ﷺ کو آخری نبی ماننا، ہر قسم کی تحریف، تاویل، اور انکار کا رد۔ اس پر قرآن، سنت اور اجماع کی واضح دلیلیں ہیں۔
- عقیدۂ تقدیر: تمام امور اللہ تعالیٰ کے ازلی علم اور قدرت کے تحت ہیں، مگر بندے کو بھی اختیار دیا گیا ہے۔ یہ اختیار و تقدیر کا توازن عقل کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔
- حشر و نشر: قیامت کا دن، حساب و کتاب، شفاعتِ مصطفیٰ ﷺ، جزا و سزا، سب کچھ برحق ہے۔
- جنت و دوزخ: اہلِ ایمان کے لیے جنت، کفار و فجار کے لیے دوزخ۔ دونوں حق اور ابدی ہیں، اللہ کی عدل و رحمت کا مظہر۔
اہل سنت و جماعت کے عقائد کی حقانیت تاریخ کے ہر دور میں نمایاں رہی ہے۔ صحابۂ کرام، تابعینِ عظام، تبع تابعین، ائمہ کرام نے ان عقائد کو اپنے قول و فعل سے تقویت بخشی اور فرقۂ باطلہ کا ہمیشہ تردید کی۔ ان عقائد پر مبنی زندگی ہی وہ حقیقی طرزِ حیات ہے جو انسان کو دنیا و آخرت کی فلاح کی ضمانت دیتی ہے۔
عقائدِ اہل سنت و جماعت نہ صرف اسلام کی اصل حقیقت اور اس کی متوازن تعلیمات کی روشن دلیل ہیں، بلکہ یہ تمام فکری انحرافات کا سدِ باب بھی ہیں جو دینِ حق کی راہ میں رکاوٹ بن کر انسانیت کو گمراہی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اہل سنّت کا عقیدۂ توحید، ختمِ نبوت، تقدیر، حشر و نشر، جنت و دوزخ اور دیگر بنیادی اصول امتِ مسلمہ کے لیے چراغِ ہدایت کی طرح ہیں، جو صحیح ایمان کی پہچان اور اس پر عمل کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ عقائد علم و حکمت کا ایک گہرا امتزاج پیش کرتے ہیں جو نہ صرف فرد کی روحانی فلاح اور عقلی استحکام کا ضامن ہے، بلکہ امت کی اجتماعی کامیابی کے لیے بھی ایک مضبوط ستون ثابت ہوتا ہے۔
------------------------------------------------------------------------------ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مزید پڑھیں 👇🏻


Masha Allah
ReplyDelete🤍💌
Delete