سیمانچلی اجلاس و اعراس کا جائزہ اور چند معروضات

 🌳سیمانچلی اجلاس و اعراس کا جائزہ اور چند معروضات🌳        

           از قلم: ✍🏻 محمد کونین صدیقی کٹیہاریــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

       ـــــ----------------------------------------------------------------------------------------

امت مسلمہ کے ایمان و عقائد کی صیانت و پاسبانی کے لیے ہمارے معزز و مقتدر اسلاف نے اجلاس کا آغاز کیا، جس کے ذریعے سماجی، سیاسی اور تبلیغی امور کے حوالے سے انتہائی خوش آئند اور نتیجہ خیز کارنامے انجام دیے گئے۔ نیز عباقر شخصیت کی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے اور ان کے فیوض و برکات کی تحصیل کے لیے ان کے خدام و مریدین نے عرس کا انعقاد و اہتمام کیا۔ 



سیمانچلی اجلاس و اعراس کا جائزہ اور چند معروضات ـ محمد کونین صدیقی کٹیہاری


اعراس ہونے والے مقامات میں سے ہمارا علاقہ سیمانچل بھی ہے، جو کٹیہار، پورنیہ ارریہ اور کشن گنج اضلاع پر مشتمل ہے، جہاں مثبت روش کے تحت اجلاس و اعراس کا آغاز ہوا، جن کے انتہائی خوش گوار احوال و آثار ظاہر ہوئے۔ ان کے ذریعے دین اسلام کی نشر و اشاعت اور قوم و ملت کی فلاح و بہبود کا قابلِ قدر کام ہوا۔ لیکن قَلق سے دو چار ہو کر کہنا پڑ رہا ہے کہ عصر حاضر میں وہ مقاصد اصلیہ مفقود ہو چکے ہیں، اجلاس و اعراس کو اب ذریعۂ معاش بنا لیا گیا، ماضی میں جس بابت اجلاس کو وجود میں لایا گیا تھا، اب بالکل اس کا برعکس ہو چکا ہے، وہ اس طور پر کہ جو پوری رات جلسہ سنتے ہیں؛ انھیں اگر یہ کہا جائے کہ جلسہ کیسا رہا تو وہ بولتے ہیں بہت بہترین رہا، شاعر و خطیب صاحبان تو خوب جوش میں تھے مزہ آ گیا، اور اگر ان سے صدق دل سے پوچھا جاۓ کہ آپ نے ان حضرات سے کیا سیکھا تو وہ بالکل اپنا منہ اس طور پر بند کر دیں گے کہ جیسا کہ اس کی شرکت اس محفل میں تھی ہی نہیں، اجلاس میں یہ بھی درس دی جاتی ہے کہ اجنبی شخص سے ملنا جلنا غلط نگاہ سے دیکھنا گناہ ہے، وہیں مرد و زن کا اختلاط ہوتا ہے، لوگ جلسہ سننے کم عیاشی کرنے زیادہ آتے ہیں۔

 ایسا ہو بھی کیوں نہ کہ اگر اجلاس و اعراس کی کمیٹی اور سکریٹری جاہل ہوں، جسے اسلام کی تعلیم و تربیت معلوم ہی نہ ہو تو ان جہال سے امید ہی کیا کی جا سکتی ہے، جو مال و دولت کا حرص و طمع رکھیں۔

          

      اور اس لیے بھی کہ مقتدر خانقاہوں میں شکم پرور جاہل اور طمع کے سمندر میں غوطہ زن شخص کو گدی نشیں بنایا گیا ہو، جسے نہ خود اسلام کی تعلیم و تربیت اور تبلیغ کی بنیادی باتیں معلوم ہوں، تو ایسے احوال میں اجلاس و اعراس کا حقیقی طور پر مثبت پہلو سے استخراج کر کے منفی پہلو کی طرف مائل ہونا تو بالکل اظھر من الشمس ہے،

         کیا لوگوں پہ صرف یہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ کچھ عرصے کے لیے کسی امام کو معمولی تنخواہ دے کر ان کے عقائد ونظریات، تعلیم و تربیت، تقوی و طہارت اور لباس اور نا جانے اور کیا کیا ان میں دیکھتے ہیں، وہ اس وقت کہاں اپنا منہ چھپائے رہتے ہیں جب کسی خانقاہ کے گدی نشیں کو منتخب کیا جاتا ہے، وہ تو اپنے ماتحت جملہ مریدین کا قائد و رہنما ہوتا ہے، جب کہ اس سجادہ نشیں کے اندر عقائد و نظریات، مذہب و مسلک، تعلیم و تربیت، عادات و اطوار، تقوی و طہارت، شریعت و طریقت کی پاسبانی دیکھ کر منتخب کیا جانا چاہیے، لیکن ہوتا یوں ہے کہ والد پیر تو ان کے صاحب زادے بھی پیر واہ رے زمانے کے کم ظرف اور بے حس لوگ ، یاد ہوگا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ نے اپنے وافر تمیز، لخت جگر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما کو منصب خلافت پر فائز کرنے سے صرف ایک غلطی کی بنا پہ منع بالجبر کیا تھا، جب کہ وہ تو زیادہ اس کے لائق و فائق تھے۔

            لیکن افسوس کا مقام ہے کہ جہاں جس چیز کی بابت لوگوں کو تفتیش و تفحص کرنا چاہیے، وہاں وہ منہ چھپائے پھرتے ہیں۔

       اعراس کے ان منفی اثرات کا بھی سد باب ہو سکتا ہے، جب کہ خانقاہوں میں جاہل و کاہل اور مکار پیروں کو نکال کر اسی جگہ ایک قابل عالم و فاضل اور اہلیت رکھنے والے پیروں کو منصب خلافت پر فائز کریں، تو اس سے صرف خانقاہ ہی نہیں بلکہ مسلک حنفیت کا بھی خاصا طور پر عروج ہوگا،

    دور حاضر میں یہ جو چار دن کا رنگ ڈھنگ نعت خواں ہیں، جو کلام پڑھے تو نہ ان کے کلام میں جاذبیت نہ ہی چاشنی اور نہ ہی ان میں خلوص تو وہ بھی راہ راست پہ آ جائے گا، اور کچھ بے حس خطیب ہیں، جن کا مقصد لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف لانا یا رغبت دلانا نہیں ہوتا، بالکل وہ بھی شکم پرور، مال کے حریص ہو چکے ہیں تو ایسے نا اہل خطیب بھی امید قوی ہے کہ سدھر جائیں گے۔

         کسی بھی اچھی چیز میں اگر برائی کی شمولیت ہو تو وہ برائی ختم کی جانی چاہیے، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کچھ برائی کی طرف نظر کر کے اس اچھے کام کو ہی ختم کر دیا جائے، اس لیے ناچیز کی علماے اہل سنت والجماعت کی بارگاہ میں خصوصیت کے ساتھ علماے سیمانچل سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ اگر جلسے کیے جائیں تو دن میں عورتوں کا پروگرام ہو جس میں مردوں کی شرکت ممنوع ہو، اور رات میں مردوں کا جلسہ ہو اور اس میں عورتوں کی حاضری منع بالجبر ہو۔

===========================================================================

مزید پڑھیں 👇🏻 

انسانی معاشرے میں فلم اور ڈرامے کے پراگندہ اثرات اس مضمون کو ضرور پڑھیں


Post a Comment

1 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.