تراویح کی رکعات کی تعداد


تراویح کی کتنی رکعتیں ہیں؟

تراویح کی رکعات کی تعداد | تراویح میں کتنی رکعتیں ہیں

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
جمہور اُمَّت کے ہاں تراویح کی بیس رکعتیں ہیں۔ اور یہی احادیث سے ثابت ہے، فاروقِ اعظم اور عثمان وعلی رضی اللہ عنھم کے عہد میں بھی بیس رکعت ہوتی تھیں۔ پھر حضرت عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی سنت رسالت مآبﷺ کی ہی سنت ہے کیونکہ آپ ﷺ نے ہمیں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی اقتداء کا حُکم دیا ہے اور خلفائے راشدین کی اتباع سنت میں تاکید کامل فرمائی ہے۔ بیس رکعت ہونے میں یہ حکمت ہے کہ فرائض و واجبات کی اس سے تکمیل ہوتی ہے اور کل فرائض و واجب کی ہر روز بیس 20 رکعتیں ہیں، لہٰذا مناسب کہ یہ بھی بیس ہوں کہ مکمل و مکمل برابر ہوں۔

لوگ فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں بیس رکعتیں پڑھا کرتے تھے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے:”عن ساءب بن یزید قال کنا نقوم في زمان عمر بن الخطاب بعشرین رکعة والوتر.“ یعنی حضرت سائب بن یزید رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ ہم صحابہ کرام حضرت عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ کے زمانہ میں بیس رکعت ( تراویح) اور وتر پڑھتے تھے۔ (معرفة السنن و االآثار للبیہقی، کتاب الصلاۃ، باب قیام رمضان، رقم:1365، جلد:2، صفحة305)

اس حديث کے بارے میں ”ملا علی قاری حنفى رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ“ (المتوفى:1014ھ) فرماتے ہیں:”قال النووي في الخلاصة إسناده صحيح.“ یعنی امام نووی نے خلاصہ میں فرمایا کہ اِس روایت کی اسناد صحیح ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، کتاب الصلاۃ، باب قیام شھر رمضان، تحت الحدیث:1303، الجزء الثالث، صفحة:345)

دوسری حدیث شریف میں ہے:عن یزید بن رومان أنه قال کان الناس یقومون في زمان عمر بن الخطاب في رمضان بثلاث وعشرین رکعة.“ یعنی حضرت یزید بن رومان رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے زمانے میں لوگ تئیس رکعت پڑھتے تھے (یعنی بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر)۔ (الموطأ لإمام مالک، کتاب الصلاۃ في رمضان، باب ماجاء في قیام رمضان، رقم:257، جلد:1، صفحة:120)

حضرت عثمان و علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کے عہد میں بھی بیس رکعت ہوتی تھیں، چنانچہ امام ملا علی قاری رَحْمَةُ الله تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفى:1014ھ) ”فتح باب العنایة شرح النقایة“ میں ہے:”روي البيهقي بإسناد صحيح:«أنهم كانوا يقيمون على عهد عمر بعشرين ركعة، وعلى عهد عثمان وعلي رضي الله عنهم».“ یعنی امام بیہقی نے بسند صحیح روایت کی کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگ بیس رکعتیں پڑھتے تھے اور حضرت عثمان وعلی کے عہد میں بھی یوہیں تھا۔ (فتح باب العنایة شرح النقایة، کتاب الصلاۃ، فصل في صلاۃ التراویح، المجلد الأول، صفحة:342)

خلفائے راشدین کی اتباع لازم ہے، چنانچہ حدیث پاک ہے حضور ﷺ نے فرمایا:”علیکم بسنتی و سنة الخلفا الرشدین.“ یعنی میری اور خلفائے راشدین کی سنت کو اختیار کرو۔ (مؤطا امام مالک، تحت الحدیث: 709۔ 3/108)

احمد، ترمذی ابنِ ماجہ اور رؤیائی نے حضرت حُذیفہ بن یمان اور ابنِ عدی نے حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے روایت کیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا:”اقدوا بالذين من بعدي من أصحابي أبي بكر وعمر.“ یعنی لوگو! تم میرے بعد میرے صحابہ ابو بکر وعمر کی اقتداء کرنا۔ (جامع الترمذی، أبواب العلم، باب ماجاء في الأخذ بالسنة ۔۔۔ إلخ، الحدیث:2685، جلد:4، صفحة:308)

بیس رکعات پر صحابہ کا اجماع ہے، چنانچہ ملک العلماء علامہ علاؤالدین ابو بکر بن مسعود کاسانی حنفی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفی:587ھ) لکھتے ہیں:”روي أن عمر رضي الله عنه جمع أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم في شهر رمضان على أبي بن كعب فصلى بهم في كل ليلة عشرين ركعة، ولم ينكر عليه أحد فيكون إجماعاً منهم على ذلك.“ یعنی مروی ہے کہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ نے رمضان کے مہینہ میں صحابہ کرام کو حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ پر جمع فرمایا تو وہ روزانہ صحابہ کرام کو بیس رکعت پڑھاتے تھے اور ان میں سے کسی نے مخالفت نہیں کی تو بیس رکعت پر صحابہ کا اجماع ہوگیا۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الصلاة، فضل في قدر الترويح، المجلد الثاني، صفحة:273، دار الحديث قاهرة)

امام بدر الدین عینی حنفی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفى:855ھ) ”عمدة القارى“ میں لکھتے ہیں:”قال ابن عبد البر وهو قول جمهور العلماء وبه قال الكوفيون والشافعي وأكثر الفقهاء وهو الصحيح عن أبي بن كعب من غير خلاف من الصحابة.“ یعنی علامہ ابن عبد البر نے فرمایا کہ (بیس رکعت تراویح) جمہور علماء کا قول ہے۔ علمائے کوفہ، امام شافعی اور اکثر فقہاء یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ ابی بن کعب سے منقول ہے اس میں صحابہ کا اختلاف نہیں۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، کتاب التراویح، باب فضل من قام رمضان، الجزء الثامن، صفحة:246)

علامة أحمد بن محمد بن إسماعيل طحطاوي حنفي (المتوفى:1231ھ) تحریر فرماتے ہیں:”وهي عشرون ركعة بإجماع الصحابة.“ یعنی تراویح بیس رکعت ہے اِس لیے کہ اس پر صحابہ کرام کا اجماع ہے۔ (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، کتاب الصلاۃ، فصل في صلاۃ التراویح، صفحة:244)

مولانا عبد الحیی فرنگی محلی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفى:1304ھ) ”عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح وقایہ“ میں لکھتے ہیں:”ثبت إهتمام الصحابة على عشرين في عهد عمر وعثمان وعلى فمن بعدهم أخرجه مالك وابن سعد والبيهقي وغيرهم.“ یعنی حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُم کے زمانے میں اور ان کے بعد بھی صحابہ کرام کا بیس رکعت تراویح پر اہتمام ثابت ہے اس مضمون کی حدیث کو امام مالک، ابن سعد، اور امام بیہقی وغیرہم نے تخریج کی ہے۔ (عمدۃ الرعایۃ حاشیة شرح الوقایة، باب بیان سنیة التراویح وتعداد رکعتھا، صفحة:207)

ملا على قارى رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ تحرير فرماتے ہیں:”أجمع الصحابة على أن التراويح عشرون ركعة.“ یعنی صحابہ کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ تراویح بیس رکعت ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، کتاب الصلاۃ، باب قیام شھر رمضان، الحدیث:1303، الجزء الثالث، صفحة:382)

بیس رکعت جمہور کا قول ہے اور اسی پرعمل ہے، چنانچہ امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفى:279ھ) فرماتے ہیں:”أكثر أهل العلم على ما روي عن علي وعمر وغيرهما من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم عشرين ركعة وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي وقال الشافعي هكذا أدركت ببلدنا بمكة يصلون عشرين ركعة.“ یعنی کثیر علماء کا اسی پر عمل ہے جو حضرت مولیٰ علی حضرت فاروق اعظم اور دیگر صحابہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُم سے بیس رکعت تراویح منقول ہے۔ اور سفیان ثوری، ابن مبارک اور امام شافعی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِم بھی یہی فرماتے ہیں کہ (تراویح بیس رکعت ہے) اور امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ ہم نے اپنے شہر مکہ شریف میں لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھتے ہوئے پایا ہے۔ (سنن الترمذی، کتاب الصوم، باب ما جاء فی قیام شھر رمضان، المجد الثاني، صفحة:215)

رد المحتار میں علامہ محمد امین بن عمر معروف ابن عابدین شامی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفی:1252ھ) فرماتے ہیں:”(وهي عشرون ركعة) هو قول الجمهور، وعليه عمل الناس شرقاً وغرباً.“ یعنی تراویح بیس رکعت ہے یہی جمہور علماء کا قول ہے اور مشرق و مغرب ساری دنیا کے مسلمانوں کا اسی پر عمل ہے۔ رد المحتار، كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، مبحث:صلاة التراويح، الجزء الثاني، صفحة:495، دار عالم الكتب رياض)


علامہ شیخ زین الدین بن ابراھیم بن محمد معروف ابنِ نجیم مصری حنفی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفی:970ھ) لکھتے ہیں:”هو قول الجمهور لما في المؤطإ عن يزيد بن رومان قال كان الناس يقومون في زمن عمر بن الخطاب بثلاث وعشرين ركعة وعليه عمل الناس شرقاً وغرباً.“  یعنی بیس رکعت تراویح جمہور علماء کا قول ہے اس لیے کہ مؤطا امام مالک میں حضرت یزید بن رومان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر فاروق أعظم رَضِیَ الله تَعَالٰی عَنْہُ کے زمانہ میں صحابہ کرام تئیس رکعت پڑھتے تھے۔ (یعنی بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر) اور اِسی پر ساری دنیاکے مسلمانوں کا عمل ہے۔ (البحر الرائق، کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، جلد:2، صفحة:117)

امام محمد بن محمد بن محمد بن احمد طوسی غزالی شافعی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفى:505ھ) فرماتے ہیں:”وهي عشرون ركعة.“ یعنی تراویح بیس رکعت ہے۔ (إحیاء علوم الدین، کتاب إسرار الصلاۃ ومھماتھا، القسم الثالث، جلد:1، صفحة:271)

”فتاویٰ عالمگیری“ میں ہے:”وهي خمس ترويحات كل ترويحة أربع ركعات بتسليمتين كذا في السراجية.“ یعنی تراویح پانچ ترویحہ ہے، ہر ترویحہ چار رکعت کا دو سلام کے ساتھ، ایسا ہی سراجیہ میں مذکور ہے۔ (الفتاوى الهندية،كتاب الصلاة، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، الجزء الأول، صفحة:127، دار الكتب العلمية بيروت)

بیس رکعت میں حکمت کے متعلق ”البحرالرائق“ میں ہے:”ذكر العلامة الحلبي أن الحكمة في كونها عشرين أن السنن شرعت مكملات للواجبات وهي عشرون بالوتر فكانت التراويح كذلك لتقع المساواة بين المكمِّل والمكمَّل.“ یعنی علامہ حلبی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ذکر فرمایا کہ تراویح کے بیس رکعات ہونے میں حکمت یہ ہے کہ واجب اور فرض جو دن رات میں کل بیس رکعت ہیں انہیں کی تکمیل کے لیے سنتیں مشروع ہوئی ہیں تو تراویح بھی بیس رکعت ہوئی تاکہ مکمل کرنے والی تراویح اور جن کی تکمیل ہوگی یعنی فرض وواجب دونوں برابر ہوجائیں۔ (البحر الرائق، کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، جلد:2، صفحة:117)

”در مختار“ میں ہے:”حكمته مساواة المكمل للمكمل.“ یعنی بیس رکعت تراویح میں حکمت یہ ہے کہ مکمِّل مکمَّل کے برابر ہو۔ (الدر المختار کتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، مبحث:في صلاة التراويح، الجزء الثاني، صفحة:495، دار عالم الكتب رياض)

اس کے تحت ”رد المحتار“ میں ہے:”لا يخفى أن الرواتب وإن كملت أيضاً، إلا أن هذا الشهر لمزيد كماله زيد فيه هذا المكمِّل فتكمل.“ یعنی واضح ہو کہ فرائض اگرچہ پہلے سے بھی مکمل ہیں لیکن ماہِ رمضان میں اس کے کمال کی زیادتی کے سبب یہ مکمل یعنی بیس رکعت تراویح بڑھا دی گئی تو وہ خوب کامل ہوگئے۔ رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، مبحث:في صلاة التراويح، الجزء الثاني، صفحة:496، دار عالم الكتب رياض)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

مزید پڑھیں 👇🏻 







Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.