بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعث مسرت ہے
Sada e Qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
✦ مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی ✦
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

روزے کی حالت میں دانتوں سے ناخن کاٹنا کیسا ہے؟




روزے کی حالت میں دانتوں سے ناخن کاٹنا کیسا ہے؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
---------------------------------------------------------------------------------------------------

عام حالت میں بھی ناخن کو دانتوں سے کاٹنا مکروہِ تنزیہی اور ناپسندیدہ عمل ہے، کہ اس سے بَرَص یعنی سفید کوڑھ کی بیماری پیدا ہو سکتی ہے، اور حالتِ روزہ میں ایسا کرنا زیادہ مکروہ ہے۔ البتہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا جب تک کہ ناخن کا ٹکڑا حلق سے نہ اُتر جائے۔

ناخن کو دانتوں سے کاٹنا مکروہ اور مورثِ برص ہے، چنانچہ حاشیة الطحطاوی میں ہے:”يكره بالأسنان لأنه يورث البرص والجنون“ یعنی دانتوں سے ناخن کاٹنا مکروہ ہے کیونکہ یہ برص اور جنون پیدا کرتا ہے۔ (حاشية الطحطاوى على مراقى الفلاح، كتاب الصلاة، صفحة:525، دار الكتب العلمية بيروت)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”قطع الظفر بالأسنان مكروه يورث البرص“ یعنی دانتوں سے ناخن کاٹنا مکروہ ہے اس سے بَرَص پیدا ہوتا ہے۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وقلم الأظفار... إلخ، الجزء الخامس، صفحة:438، دار الكتب العلمية بيروت)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

   اُلٹی آنے سے روزہ کب ٹوٹتا ہے۔ اس مسئلہ کو پڑھنے کے لیے کلک کریں 


0 Response to "روزے کی حالت میں دانتوں سے ناخن کاٹنا کیسا ہے؟"

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->