کیا بارہ برس کا لڑکا تکبیر کہہ سکتا ہے؟


کیا بارہ برس کا لڑکا تکبیر کہہ سکتا ہے | محمد اویس العطاری المصباحی


کیا بارہ سال والا لڑکا بھی تکبیر پڑھ سکتا ہے؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

-------------------------------------------------------

اقامت کے احکام اذان کی طرح ہیں صرف بعض باتوں کا فرق ہے مثلاً اس میں بعد فلاح کے قَدْ قَامَتِ الصّلاۃُ دو بار کہیں ، اس میں بھی آواز بلند ہو، مگر نہ اَذان کی مثل، بلکہ اتنی کہ حاضرین تک آواز پہنچ جائے، اس کے کلمات جلد جلد کہیں ، درمیان میں سکتہ نہ کریں ، نہ کانوں پر ہاتھ رکھنا ہے، نہ کانوں میں انگلیاں رکھنا اور صبح کی اِقامت میں اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ نہیں اِقامت بلند جگہ یا مسجد سے باہر ہونا سنت نہیں ، اگر امام نے اِقامت کہی، تو قَدْ قَامَتِ الصَّلاۃُ کے وقت آگے بڑھ کر مصلّٰی پر چلا جائے۔ اور اذان کے بارے میں فقہاء فرماتے ہیں کہ نابالغ بچہ اگر سمجھدار ہے،اور اس کی اذان،اذان سمجھی جائے(یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ و یسے ہی لگا ہوا ہے ، اصل اذان بھی ہونی چاہئے) تو جائز ہے ،ورنہ نہیں اگر دی تو اس کی اذان کا اعادہ کیا جائے گا لیکن اگر ناسمجھ بچہ نے اقامت کہی تو اقامت کا اعادہ نہ کیا جائے گا کیونکہ اذان کی تکرار مشروع ہے اقامت کی تکرار مشروع نہیں۔

در مختار میں ہے:”(والإقامة كالأذان) فیما مر“ یعنی اقامت مذکورہ احکام میں اذان کی طرح ہے۔ (1)

بہارِ شریعت میں ہے:” اِقامت مثل اَذان ہے یعنی احکام مذکورہ اس کے لیے بھی ہیں صرف بعض باتوں میں فرق ہے، اس میں بعد فلاح کے قَدْ قَامَتِ الصّلاۃُ دو بار کہیں ، اس میں بھی آواز بلند ہو، مگر نہ اَذان کی مثل، بلکہ اتنی کہ حاضرین تک آواز پہنچ جائے، اس کے کلمات جلد جلد کہیں ، درمیان میں سکتہ نہ کریں ، نہ کانوں پر ہاتھ رکھنا ہے، نہ کانوں میں انگلیاں رکھنا اور صبح کی اِقامت میں اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ نہیں اِقامت بلند جگہ یا مسجد سے باہر ہونا سنت نہیں ، اگر امام نے اِقامت کہی، تو قَدْ قَامَتِ الصَّلاۃُ کے وقت آگے بڑھ کر مصلّٰی پرچلا جائے۔“ (2)

فتاوی عالمگیری میں ہے:”أذان الصبي العاقل صحيح من غير كراهة في ظاهر الرواية ولكن أذان البالغ أفضل وأذان الصبي الذي لايعقل لايجوز، ويعاد وكذا المجنون. هكذا في النهاية۔“ یعنی ظاہر الروایہ میں سمجھدار بچہ کی اذان بلا کراہت صحیح ہے لیکن بالغ کی اذان دینا افضل ہے اور ناسمجھ بچہ کا اذان دینا جائز نہیں،اعادہ کیا جائے گا ایسا ہی مجنون اور نہایہ میں ہے۔ (3)

فتاوی رضویہ میں ہے: ”نابالغ اگر عاقل ہے اور اس کی اذان اذان سمجھی جائے تو جائز ہے۔“ (4)

در مختار میں ہے:یعاد (أذان امرأة ومجنون ومعتوه وسكران وصبي لا يعقل) لا إقامتهم لما مر“ یعنی عورت اور مجنون اور پاگل اور نشہ والے اور ناسمجھ بچے کی اذان کا اعادہ کیا جائے گا، اقامت کا اعادہ نہیں کیا جائے گا۔ (5)

لہذا اگر 12 سال کا بچہ سمجھ دار ہے اور کلماتِ اذان درست کہہ سکتا ہو تو تکبیر پڑھنے میں حرج نہیں۔
========================================
(1) در مختار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب الاذان،جلد:1، صفحہ:418، دار الفکر، بیروت.
(2) بہارِ شریعت، اذان کا بیان، جلد:1، صفحہ:470، مجلس المدینۃ العلمیہ (دعوت اسلامی) .
(3) فتاویٰ ہندیہ، جلد:1،صفحہ:54،کوئٹہ.
(4) فتاویٰ رضویہ، جلد:5،صفحہ:420.
(5) الدر المختار، کتاب الصلاۃ، باب الاذان، جلد:1، صفحہ:423، دار الفکر، بیروت.
والله تعالیٰ اعلم بالصواب

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 

-------------------------------------------------------


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.