مختصر سوانح حیات حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ
از قلم ✍🏻: محمد كونين صدیقی کٹیہاری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آفاق کے چند بڑے ملکوتی صفات اولیاے کرام کا نام زبان زد عوام و خواص ہے۔ انھیں میں ایک قدآور اور یگانہ روزگار شخصیت کے مالک، مقتداے اہل سنّت٬ مرجع افاضل، شیخ الاسلام علامہ مصطفیٰ رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کی ذات ہے-
آپ کا اصلی نام محمد، عرفی نام مصطفیٰ رضا،
تخلص نوری اور لقب مفتی اعظم ہند ہے۔
آپ کی پیدائش کے وقت آپ کے والد بزرگوار ﴿حضور اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ﴾ مارہرہ مطہرہ میں تشریف فرما تھے٬ وہیں امام اہل سنت نے خواب میں دیکھا کہ امام اہل سنت کی زوجہ محترمہ ﴿ارشاد بیگم ﴾ کے شکم سے صاحب زادے کی ولادت ہوئی ہے، اور خواب میں ہی آل الرحمٰن نام رکھا۔
مرشدِ مفتی اعظم ہند حضرت نور العارفین مخدوم شاہ ابو الحسین احمد نوری علیہ الرحمہ نے ابو البرکات محی الدین جیلانی نام تجویز فرمایا۔
عقیقہ کے محمد نام سے ہی کروایا گیا۔ ﴿ تذکرۂ علماے اہل سنّت صفحہ: ۲۲۳.﴾
ولادت با سعادت: ۲۲/ذی الحجہ ۱۳۱۰ھ/ ۷ جولائی ۱۸۹۳ء کو بروز جمعہ صبح صادق کے وقت محلہ سوداگران بریلی شریف میں آپ کی ولادت ہوئی۔
مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کی پیدائش کے چھ ماہ بعد حضرت نور العارفین بریلی شریف تشریف لائے، آپ کو گود میں لے کر خلافت سے سرفراز فرمایا اور جدید و قدیم ۱۳ سلاسل کی اجازت عطا فرمائی، ساتھ ہی ارشاد فرمایا: ”یہ بچہ مادر زاد ولی ہے، فیض کے دریا بہاۓگا۔
اس کے بعد ہی آپ کے والد محترم نے اپنے لخت جگر کو تمام سلاسل کی اجازت عطا فرمائی، اس طرح خاندان برکات کے دو چشم و چراغ سے آپ نے بلا واسطہ فیض پایا۔ ﴿فیضان مارہرہ و بریلی،مضمون صفحہ: ۱۸۴﴾۔
آپ نے جملہ علوم و فنون اپنے والد گرامی، اور برادر کبیر ﴿حضور حامد رضا خان قادری علیہ الرحمہ﴾، استاذ الاساتذہ علامہ شاہ رحم الہی منگلوری، شیخ العلما علامہ شاہ سید شاہ بشیر احمد علی گڑھی اور شمس العلما ظہور حسین فاروقی رامپوری سے ۱۸ سال کی عمر میں تقریباً چالیس علوم و فنون کی تحصیل فرما کر کے سند فراغت حاصل کی۔
فراغت کے بعد آپ نے جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف میں مسند تدریس کو رونق بخشی۔
تقریباً تیس سال تک علم و حکمت کے دریا بہاۓ، بر صغیر ہند و پاک کی اکثر درسگاہیں آپ کے تلامذہ کی علمی وجاہت سے مالا مال ہیں۔ آپ اپنے والد محترم کے ساتھ رہ کر فتاویٰ نویسی بھی کرتے۔ آپ کا یہی مشغلہ رہا جس کے باعث درجنوں کتابیں آپ کی شائع ہو چکی ہیں..
۱۹۷۶/۱۹۷۷ کا پر آشوب دور اسلامیان ہند کےلیے نہایت دل دوز و جاں سوز اور بھیانک طوفان کا پر فتن دور تھا۔ اس وقت حق گوئی و حق پرستی بہت مشکل تھی؛ بڑے بڑے جبہ و دستار والے حکومت وقت کے غلام اور دین فروش نظر آ رہے تھے، کسی میں دین مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا پیغام حق بلند کرنے کی ہمت نہ تھی، اس پر خطر ماحول میں بریلی شریف کا ایک رئیس شہزادہ، علم و فضل، زہد و تقویٰ میں یگانہ سیرت و صورت اور اخلاق و کردار میں یکتا، تاجدار اہل سنت مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوے ”كلمة الحق عند السلطان الجابر جهادٌ“ کا فریضہ انجام دینے میں مصروف عمل تھے۔
حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ ضبط تولید اور نس بندی کے عدم جواز کے متعلق فرماتے ہیں: ”ضبط تولید کےلیے مرد کی نس بندی یا عورت کا آپریشن متعدد وجوہ سے شرعاً نا جائز و حرام ہے“ اس میں اللّٰہ رب العزت کی پیدا کی ہوئی چیز کو بدلنا ہے اور یہ قرآن و حدیث کی نص سے نا جائز و حرام ہے ﴿ فتاویٰ مصطفویہ،صفحہ: ۳۳۱﴾
حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ (بانی الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ یوپی) فرماتے ہیں: کہ اپنے شہر میں کسی کو عزت و مقبولیت نہیں ملتی لیکن حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کو اپنے دیار میں جو عزت و مقبولیت حاصل ہے اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ یہ ان کی کرامت ولایت کی کھلی ہوئی دلیل ہے۔ نیز فرماتے ہیں: کہ حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ شہنشاہ ہیں شہنشاہ یعنی حضرت کے ساتھ شہنشاہ کا سا برتاؤ کرنا چاہیے۔ (ماہنامہ استقامت کا مفتی اعظم ہند نمبر،صفحہ: ۸۸۵ )
وصال: شب پنج شنبہ ۱۴/محرم الحرام ۱۴۰۲ھ / ۱۲/ نومبر ۱۹۸۱ء ۰۱:۴۰ بجے کے قریب یہ مہر درخشاں افق مرگ کی پنہائیوں میں گم ہو گیا۔﴿إنا لله و انا اليه راجعون
دوسرے روز بعد نماز جمعہ ۰۳:۲۰ میں اسلامیہ کالج کے وسیع و عریض گراؤنڈ میں نماز جنازہ ادا کی گئی، اور آپ کو محلہ سودا گران بریلی میں آپ کے ہی والد محترم کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔.
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

.png)